(٣١)__________
١٢١٨ ١٤٠٢ھ (تحریک ختم نبوت کے بارہ میں ڈاکٹر اسرار کے مضمون پر جوابی تنقید)
جناب محترم ومکرم مولانا سمیع الحق صاحب زید مجدہ۔السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔معروض آنکہ ماہنامہ میثاق لاہور آپ کے پاس آتا ہوگا۔ اس کے ذوالحجہ، اکتوبر کے شمارے میں ڈاکٹر اسرار احمد ١نے ٨٣ کی تحریک ختم نبوت کے خلاف زہر اگلا ہے۔ اس کی پوری عبارت میں اس خط میں نقل کرچکا ہوں جو ڈاکٹر اسرار کو لکھا ہے۔ اور جس کی فوٹواسٹیٹ کاپی آپ کو بھیج رہا ہوں۔ وہ شمارہ خودبھی ملاحظہ کرلیجئے۔ میرے خیال میں اس پر خاموش رہنا شہدائے ختم نبوت کے خون سے غداری ہے۔ ظالم نے تمام اکابرامت کو بدنام کیا ہے۔کیا آپ اس کانوٹس لیں گے؟۔ حضرت اقدس شیخ الحدیث دامت برکاتہم کی خدمت میں سلام اور درخواست دعا۔ والسلام۔ محمد یوسف
_________________________________________
١٨۔١٢۔١٤٠٣ھ (ڈاکٹر اسرار کے نام مولانا لدھیانوی کا تفصیلی خط)
١ محترم جناب ڈاکٹر اسرار احمد صاحب۔ سلمہ اللہ و عافاہ۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ۔ امید ہے مزاج گرامی بعافیت ہوں گے۔ ''میثاق'' کے تازہ شمارہ (ذوالحجہ ١٤٠٢) میں جناب نے اپنے مضمون''مولانا مودودی مرحوم اور میں'' میں صفحہ ٦٥۔٦٦ پر ٥٣ کی تحریک ختم نبوت کے بارے میں اظہار خیال فرمایا ہے۔
''١٩٥٣ء کو پاکستان کی تاریخ میں انتہائی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے کہ اس کے دوران ایک جانب تو پاکستان کی عوامی سیاست کے میدان میں وہ عظیم ہنگامہ خیز تحریک برپا ہوئی جس نے ہمیشہ کیلئے پاکستانی سیاست کی گاڑی کو پٹڑی سے اتار کر رکھدیا۔جو عبارت درمیان میں چھوڑ دی گئی وہ یہ ہے۔ چنانچہ پاکستان میں پہلی بار ایک محدود پیمانے پر مارشل لاء نافذ ہوا۔ اور دوسری طرف پاکستانی طلبہ میں بھی بائیں بازو کے عناصر نے عظیم ترین ہل چل پیدا کی۔ جسکے نہایت دور رس اثرات مرتب ہوئے۔ ١٩٥٣ء کی انٹی قادیانی تحریک کا آغاز تو مجلس احرار کے اُن زعماء نے کیا تھا جو ٤٧ء میں قیام پاکستان کی صورت میں جو شکست فاش انہیں ہوئی تھی اسکے زیر اثر پورے چھ سال منقار زیر پر رہے تھے اور اب اچانک انٹی قادیانی تحریک کا علم اٹھائے منظر عام پر ظاہر ہوئے تھے۔ لیکن بعد میں اس میں دوسرے مذہبی عناصر بھی کچھ دلی آمادگی کے ساتھ اور کچھ مجبوراً شامل ہوتے چلے گئے۔ دلی آمادگی کے ساتھ شامل ہونے والوں میں سرفہرست حلقہ دیو بند کے وہ علماء کرام تھے جو مولانا حسین احمد مدنی کی زیر قیادت کانگریس کے ہمنوا رہے تھے۔ان محولہ حالات کے دبائو کے تحت شامل ہونے والوں میں نمایاں اولاً حلقہ دیو بند کے مسلم لیگی علماء اور ثانیاً بریلوی مکتب فکر کے علماء وزعماء تھے''۔
اس ناکارہ نے جناب کی اس تحریر سے حسب ذیل نتائج اخذ کئے ہیں:
١۔ ٥٣ء کی تحریک ختم نبوت (جسے جناب ''انٹی قادیانی تحریک'' سے تعبیر فرماتے ہیں) مذہبی نہیں بلکہ سیاسی تحریک تھی۔
٢۔ یہ تحریک ملک و ملت کے لیے تباہ کن ثابت ہوئی۔ ٣۔ یہ اتنی ہی خطرناک تھی جتنی کہ کمیونسٹ عناصر کی پاکستانی طلبہ میں عظیم ترین ہل چل۔
٤۔ اس تحریک کے بانی مبانی اور مدار المھام ''احرار'' تھے۔ جنکا مقصد پاکستان سے اپنی شکست فاش کا انتقام لینا تھا۔
٥۔ احرار کے علاوہ جس قدر علما و صلحانے اس میں حصہ لیا وہ یا تو اپنی کانگرسی ذہنیت کے بنا پر اس میں شریک ہوئے یا اپنے ضمیرو وجدان کے علی الرغم محض عوامی دبائو کی وجہ سے گویا خدا و رسول کی رضا مندی اور دینی حمیت و غیرت کی بنا پر ان میں سے ایک بھی شریک نہیں ہوا تھا۔
تحریک ختم نبوت ٥٣ء کے اکثر زعما خدا تعالیٰ کے حضور پہنچ چکے ہیں اور ہر ایک کو اپنے کئے کا بدل مل چکا ہے۔ ان خیرا فخیروان شراً فشرًا ظاہر ہے کہ وہ ہماری طرح ستائش اور ذم سے بالا تر ہیں آپ نے ان کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس سے انکا تو کوئی نقصان نہیں۔ بلکہ کچھ نفع ہی بڑا ہو گا۔ کہ اس غیبت کے ذریعہ جناب نے اپنی نیکیوں کا تحفہ انکو عطا کیا ۔میرا خیال ہے کہ جماعت اسلامی کے امیر حلقہ رہنے کی وجہ سے جناب کو نہ تو ان معروضی حالات کا علم ہے جنکی وجہ سے یہ تحریک اٹھی۔ اور نہ ان اکابر امت کو قریب سے دیکھنے کا موقعہ ملا۔ اس ناکارہ کو ان اکابر کی خدمت میں حاضری کا موقعہ ملا ہے۔ اور انکی خلوت و جلوت کا بغور مطالعہ کیا ہے۔ اپنے ذاتی مشاہدہ کی بنا پر اگر انکے صدق و اخلاص اور حمیت وللہیت کی قسم کھائوں تو انشاء اللہ حانث نہیں ہونگا۔
صفائی سے عرض کرتا ہوں کہ یہ ناکارہ جناب کی اس تحریر کو سفید جھوٹ اور اکابر اولیا اللہ کے حق میں''سبحانک ہذا بہتان عظیم'' کا مصداق سمجھتاہے ۔ اس افترا پردازی سے جناب کے بارے میں جو خوش فہمی تھی وہ بھی زائل ہو گئی۔ عارف رومی کے بقول چوں خدا خواہد کہ پردہ کسی درد میلش اندر طعنہ پاکاں زند
ارادہ تھا کہ جناب کی اس دل خراش تحریر پر حسبةً الِلّٰہ وذبا عن اولیاکچھ لکھوں۔ پھر خیال ہوا کہ اس سلسلہ میں چند امور دریافت کر لئے جائیں۔
١۔ تحریک کے دو ہدف تھے۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور قادیانی وزیر خارجہ کو جس نے اپنی سرکاری حیثیت کو قادیانیت کے فروغ وتبلیغ کا ذریعہ بنا رکھاتھا۔ بر طرف کیا جائے۔ اسی کے ساتھ ایک مطالبہ یہ تھا کہ قادیانی مرتدین کو کلیدی آسامیوں سے ہٹایا جائے۔ کیا آپ ان مسائل کو دینی مسائل سمجھتے ہیں یا یہ آپکے نزدیک ''سیاست'' ہے؟ اگر یہ سیاست ہے تو ''دینی مسائل ''کی کیا تعریف ہے۔
٢۔ ٧٤ء کی تحریک کے بارے میں کیا رائے ہے کیا وہ بھی ''سیاست بازی'' تھی؟ اگر جواب نفی میں ہے تو جو مسئلہ ٥٣ء میں سیاسی تھا وہی ٧٤ء میں دین کیسے بن گیا؟ اور اگر یہ بھی''سیاست''تھی تو اسکے معنی یہ ہوں گے کہ ٧٤ء کے آئینی فیصلے سے جناب کو اتفاق نہیں۔ (بقیہ اگلے صفحے)