(٨) قرار داد میں طالبان کی اصطلاح ہرگزاستعمال نہ کی جائے کہ اس طرح یہ آگ پورے پاکستان میں پھیلنے کا اندیشہ ہے اسی طرح دہشت گردی کی بجائے مزاحمت کاروں کا لفظ استعمال کیا جائے۔
(٩) مذاکرات سے پہلے ہتھیار ڈالنا ناقابل عمل ہے ۔ اگر ممکن ہو تواس سارے حالات کے اصل سرچشمہ امریکہ اوراسکے اتحادیوں کے ساتھ ڈائیلاگ مکالمہ اور مذاکرات کا راستہ نکالا جائے۔
(١٠) بلوچستان کے مسئلہ پر مستقل توجہ دی جائے اور اس کے فوری حل کے راستے نکالے جائیں۔
سینیٹر سمیع الحق رکن پارلیمانی کمیٹی
_________________
نائن الیون کے بعد افغانستان کی طرح ہماری غیر اعلانیہ غلامی عالمی دہشت گرد ہماری ایٹمی اور دفاعی صلاحیت کو چھین رہے ہیں
ایوان بالا سینیٹ آف پاکستان میں مولانا سمیع الحق کی اذانِ حق
١٦ فروری ٢٠٠٤ء
ایٹمی ٹیکنالوجی کی منتقلی ' ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور سائنسدانوں کی ڈی بریفنگ کے سلسلہ میں مولانا سمیع الحق صاحب مدظلہ نے سینیٹ میں تحریک داخل کی تھی جوکہ منظور کرلی گئی اس کے حق میں مولا نا سمیع الحق مدظلہ نے مورخہ 16-02-04 کو سینٹ کے اجلاس میں درج ذیل تقریر فرمائی جسے سینیٹ کے ریکارڈ کردہ آفیشل رپورٹ سے من و عن نقل کیاگیاہے 'نذر قارئین ہے … (شفیق الدین فاروقی)

مولانا سمیع الحق: بسم اللہ الرحمن الرحیم' جناب چیئرمین صاحب ' میں انتہائی اختصار کے ساتھ گزارش کروں گا ' میرے محترم اراکین سینیٹ نے بڑے سیر حاصل طریقے سے بات کی ہے۔ اپنے سائنسدانوں کے ساتھ جو کچھ ہورہا ہے یہ ہماری تاریخ کا ایک سیاہ ترین باب ہے' میرے خیال میں رہتی دنیا تک اسے نہ دھویا جاسکے گا' نہ مٹایا جاسکے گا' سقراط کے ساتھ جو کچھ ہوا تھا آج تک دنیا اس قوم کا ذکر کررہی ہے ' جنہوں نے علم اوراپنی قوم پر احسانات کی پاداش میں ان کو تہہ خانوں میں ڈالا' نظربند کیا ' پھر آخر میں زہر کا پیالہ پلایا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ ایک وقتی مسئلہ نہیں ہے جیسا کہ ہمارے محترم اراکین نے اشارہ کیا ' یہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے۔ اگر آج بھی ہم اس پر بند باندھ سکیں او راس کو روک سکیں تو یہ ہماری اپنی آزادی ' قوم و ملک کی سا لمیت کے ساتھ احسان ہوگا ۔
امریکہ کو سازگار ماحول کی تلاش تھی: میں سمجھتا ہوں کہ بہت پہلے سے غیر اسلامی قوتیں یہ برداشت نہیں کررہی تھیں کہ کسی اسلامی ملک کے پاس جوہری توانائی کی قوت آجائے۔ پہلے ہی دن سے امریکہ اور اس کے حواری ہرگز برداشت نہیں کرسکے کہ پاکستان ایٹمی قوت بنے۔ قدرت نے افغانستان میں ایسے حالات پیدا کئے کہ روس کے ساتھ سب جنگ میں لگ گئے اور پاکستان اس کی فرنٹ لائن میں تھا۔ اس وقت امریکہ مجبوراً ان حالات کے وجہ سے پاکستان کے بارے میں جو کچھ بھی اس کو معلوم ہورہا تھا وہ اپنا مقصد حاصل کرنے کے لئے اس سے چشم پوشی کررہا تھا۔ سوویت یونین کی شکست و ریخت کے بعد مسلسل اس نے دبائو ڈالناشروع کیا' ابھی ہم نے دھماکہ نہیں