بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
آخری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں
حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی صاحب
مؤرخین اور مصنفین کو خدا معاف کرے مقدس سے مقدس مقامات اور افضل سے افضل اوقات میں بھی یہ تاریخی ذوق اور طرز فکر ان کا ساتھ نہیں چھوڑتا اور وہ چند لمحات کے لیے بھی اسے آزاد نہیں ہوپاتے - وہ جہاں بھی ہوتے ہیں اپنے علم اور مطالعہ کی فضا میں سانس لیتے ہیں اور حال کا رشتہ ہمیشہ ماضی سے جوڑنا چاہتے ہیں - مناظر کو دیکھ کر ان کا ذہن بہت جلد اس تاریخی منظر کی تلاش میں نکل جاتا ہے جس کے نتیجے میں ان مناظر کا وجود اور نمود ہے -
میں کل مسجد نبوی میں روضہ جنت میں بیٹھا ہوا تھا - اس سے مراد وہ مقام ہے جس کے متعلق حدیث میں آیا ہے کہ "میرے گھر اور منبر کے درمیان جنت کی کیاریوں میں سے ایک کیاری ہے - میرے چاروں طرف