مِنْ أجَلِ ذٰلِکَ کَتَبْنَا عَلیٰ بَنِیْ اِسْرَائیْلَ أنَّہٗ مَنْ قَتَلَ نَفْساً بِغِیْرِ نَفْسٍ أوْفَسَادٍ فِی الْاَرْضِ فَکَأنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً۔
اسی وجہ سے ہم نے بنی اسرائیل کا دستور بنادیا تھا کہ جس کسی نے بلا کسی جان کے بدلے یا بلا زمین کی تباہی کے ،کسی شخص کی جان لے لی تو اس نے گویا وہاں کے تمام انسانوں کو ہلاکت میں ڈال دیا ۔
اسبابِ قتل :
اب آئیے ایک نظر اس پر بھی ڈال لی جائے کہ انسان جس کی فطرت میں انس ومحبت اور باہمی ہمدردی وغمخواری کا عُنصر شامل کردیاگیا ہے ، وہ کیونکر اس قدر درندگی پر اتر آتا ہے کہ بجائے اخوت ومساوات کے اپنے ہی بھائیوں کے خون کا پیاسا ہوجاتا ہے اس کے اندر کون سی آگ جل اُٹھتی ہے جو اس کے فطری جذبۂ انس ومودت کو خاکستر بنادیتی ہے اور پھر اس کے شعلے اس وقت تک سرد نہیں ہوتے جب تک دوسروں کے خرمنِ امن کو جلا کر نہ رکھ دے ۔
قرآن وحدیث کی تعلیمات اور فطرت انسانی کے مختلف مظاہر پر غور کرنے سے جہاں تک نظر پہونچتی ہے ، اس درندگی کے پیچھے براہ راست یا بالواسطہ تین عوامل کارفرما محسوس ہوتے ہیں ، اور یہ تینوں عوامل وہی ہیں ، جن کی جڑ سے عموماً تمام انسانی کمزوریاں جنم لیتی ہیں ، اور انسانیت کو تباہ کردیتی ہیں ، آپ انسانی جرائم کی تاریخ پڑھ ڈالئے سب کی تہ میں عموماً یا تو ’’شہوت ِ بطن ‘‘ کا جذبہ ہوگا یا ’’نفسانی خواہشات ‘‘ کا ورنہ ’’عزت وجاہ ‘‘ کی حد سے بڑھی ہوئی ہوس ان کی بنیاد ہوگی ۔
مال کی دیوانگی :