پیٹ کے تقاضوں کی تکمیل میں جب حدود سے تجاوز ہوتا ہے تو انسان کے دل میں محبتِ مال کا رذیلہ بیدار ہوتا ہے ، اور مال کی محبت اسے حرص اور بخل میں مبتلا کرتی ہے ، مال کی محبت میں آدمی دیوانہ ہوجاتا ہے ، پھر اسے دولت چاہئے ، خواہ کسی راستے سے حاصل ہو ، جب یہ ہوس جنون کی حد تک ترقی کرتی ہے تو حصول دولت کی راہ میں کوئی رکاوٹ اسے برداشت نہیں ہوتی ، مال کی اس محبت سے انسان کے اندر جو کیفیت پیدا ہوتی ہے قرآن نے اس کو ’’شح ‘‘ سے تعبیر کیا ہے ، حق تعالیٰ کا ارشاد ہے :
وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔
جس کسی کو اسکے نفس کے ’’شح ‘‘ سے نجات دیدی گئی وہی لو گ کامیاب ہیں ۔
’’شحِ نفس ‘‘ ایسا رذیلہ ہے جو حرص اور بخل دونوں خرابیوں سے ترکیب پاتا ہے ، حضرت عبد اﷲ بن عمر ص کا ارشاد ہے کہ شح یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنا مال خرچ نہ کرے ، یہ تو بخل ہے ، یہ بھی برا ہے ، بلکہ شح یہ ہے کہ آدمی کے پاس جو کچھ نہیں ہے اس کی ہوس میں پڑ جائے ، اسی بات کو حضرت عبد اﷲ بن مسعود صنے دوسرے لفظوں میں یوں فرمایا ہے کہ آدمی دوسروں کا مال ظلماً ہڑپ کرلے ۔
یہ رذیلہ جب کسی کے اندر پیدا ہوتا ہے تو وہ دوسروں کے نفع ونقصان سے آنکھیں بند کرلیتا ہے ، اسے اس کی فکر نہیں ہوتی کہ کون مرتا ہے اور کون جیتا ہے ، کس کا فائدہ ہورہا ہے اور کون گھاٹے میں پڑرہا ہے ، اسے تو بس اپنے نفع کی دُھن ہوتی ہے ، حصول زر کی دوڑ میں وہ سب سے آگے نکل جانے کی کوشش کرتا ہے ، خواہ تمام دنیا کو قدموں تلے روندنا پڑے ، کتنی خونریزیاں اسی ہوس مال کی ’’جوع البقر ‘‘ سے پیدا ہوتی ہیں ، اس کی وجہ سے رشتے ناطے ٹوٹ جاتے ہیں ،