باپ بیٹے میں ٹھن جاتی ہے ، خاندان کے خاندان برباد ہوجاتے ہیں اور پھر مال کسی کے ساتھ جاتا بھی نہیں ۔
امام بخاری ؒ نے ’’الادب المفرد ‘‘ میں اور امام مسلم ؒ نے ’’جامع صحیح ‘‘ میں حضرت جابر بن عبد اﷲ صسے روایت ذکر کی ہے کہ
ان رسول اﷲ ﷺ قال : اتقوا الظلم فان الظلم ظلمات یوم القیامۃ واتقوا الشح فان الشح اھلک من کان قبلکم حملھم علیٰ ان سفکو ادماء ھم واستحلوا محارمھم ۔
رسول اﷲ ﷺ نے ارشادفرمایا کہ ظلم سے دور رہو ، کیونکہ یہ ظلم قیامت کے دن کی تاریکیاں ہیں ، ’’شح ‘‘ سے بچو ، اس لئے کہ اگلے لوگوں کو اسی شح نے ہلاکت میں ڈالا ، اس نے انھیں خونریزی کرنے اور حرام کو حلال کرلینے پر آمادہ کیا ،( اور وہ ایسا کرگزرے )
آج اس شح کا تماشا کہاں نہیں دیکھا جاتا ، اخبارات کا بڑا حصہ اسی حصول زر کی کشمکش ، اور اسکے نتیجے میں پیدا ہونے والی خونریز یوں اور قطع رحمیوں کی داستانوں سے بھرا رہتا ہے ، آج فلاں عورت کو زندہ جلادیا گیا ، فلاں بیٹے نے اپنے باپ کو گولی ماردی ، بھائی نے بھائی کی شہ رگ کاٹ دی ، چچا نے بھتیجے کا سینہ چاک کرڈالا ، شوہر نے بیوی کا گلا دبادیا ۔ ان سب تماشوں کے پیچھے کیا ہے ؟ یہی ’’شح نفس ‘‘ جس سے بچ جانے پر انسان کو کامیابی کی ضمانت دی گئی ہے ۔
مال کا طغیان بہت ہلاکت خیز ہے ، حصول مال سے انسان کی ہوس گھٹتی نہیں اور بڑھ جاتی ہے ، رسول اﷲا کا ارشاد ہے :
لوکان لابن آدم وادیان من مالٍ لأ بتغیٰ لھما ثالثا ولا یملأ