خاص حدوں کا پابند بنادیا ، اگر انسان اس ضابطے اور حد کے دائرے میں رہے تو کوئی برائی نہ پیدا ہو ، لیکن جب وہ اس سے تعدی کرتا ہے تو اَن گنت برائیاں پیدا ہونے لگتی ہیں ، اور بالآخر نتیجہ قتل تک پہونچتا ہے ، عشق بازی کے جنون میں روزانہ کتنی موتیں ناحق ہوتی رہتی ہیں ، اخبار بیں طبقہ اچھی طرح جانتا ہے خصوصاً یورپ کے ممالک میں ۔
جولوگ واقف ہیں انھیں تو بتانا ہی کیا ؟ جو لوگ نہیں جانتے وہ سن لیں کہ سب سے پہلا قتل جو عالم انسانی میں ہوا جس کا تذکرہ قرآن میں آیا ہے مفسرین لکھتے ہیں کہ اس کی تہ میں یہی عورت اور شہوت کا فتنہ تھا ، حق تعالیٰ نے اس واقعہ کو اجمالاً ذکر فرمایا ہے :
وَاتْلُ عَلَیْھِمْ نَباَ ابْنِیْ آدَمَ بِالْحِقِّ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فُتُقُبِّلَ مَنْ أحِدِھِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مَنَ الآخِرِ قَالَ لَاَقْْتُلُنَّکَ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلَ اﷲُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ ۔
ان لوگوں کو آدم کے دونوں بیٹوں کا قصہ ٹھیک ٹھیک بتادو ،دونوںنے قربانیاں پیش کیں ، تو ان میں سے ایک کی قبول کرلی گئی دوسرے کی نہیں قبول ہوئی تو وہ کہنے لگا کہ میں تجھے جان سے مار دوں گا ، اس نے کہا کہ قربانی تو تقویٰ والوں کی اﷲ قبول کرتا ہے ۔
آیت کریمہ کے سیاق میں صاحبِ در منثور نے علامہ ابن جریر طبری کے حوالے سے حضرت عبد اﷲ بن مسعود ص کا ارشاد نقل کیا ہے ۔
’’حضرت آدم ںجب دنیا میں تشریف لائے تو ان کے یہاں اولاد جڑواں پیدا ہوتی تھی ، ایک لڑکا اور ایک لڑکی ، اور دستور یہ مقرر ہوا کہ ایک بطن کی لڑکی دوسرے بطن کے لڑکے کے نکاح میں دی جاتی ، اسی