قدوم میمنت سے سرزمین ہندوستان اور سرزمین عرب کو فوقیت بخشی، اسی طرح جب فخرالبشر ، محسن انسانیت جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کائنات کو پیغام دیا کہ اب انسانیت کی تکمیل ہو چکی ہے اور دین اسلام کو قیامت تک پیدا ہونیوالے انسانوں کیلئے اللہ تعالیٰ نے پسند فرمالیاہے ۔ تو دنیا کے اس غیر آباد اور وحشی انسانوں سے لبریز’’خطہ افریقہ‘‘ پر اللہ تعالیٰ نے اپنا کرم فرمایا ۔ اور حضور ﷺ کا پیغام (رحمۃ العالمین )کہ سارے عالم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں کو پہونچانے کیلئے آپ کے مشہور تابعی’’حضرت عقبہ بن نافع  ؓ اٹھارہ صحابہ کرام( اور مجاہدین کے لشکر )کے ساتھ سرزمین شمالی افریقہ پہونچے۔اللہ رب العزت کے ان شیروں نے گھوڑوں ،اونٹوں پریہ سفر طئے کیا۔ وہ مصر، تیونس اور لیبیا کے راستہ یہاں آئے تھے۔ ۵ہزار کلومیٹر سے زیادہ کا یہ سفر کاروں اوربسوں کے ذریعہ نہیں کیا گیاتھا ۔ بلکہ لق ودق صحراؤں ،موذی درندوں سے بھرے ہوئے جنگلوں سے گذر تے ہوئے کیا تھا۔ اس وقت سڑکوں کی کوئی سہولت نہ تھی ، راستوں میں ہوٹل نہیں تھے۔ قدم قدم پر خطرات کا سامنا تھا ان گنت رکاوٹیں اور مشقتیں سامنے تھیں۔ نہ جانے کتنے واقعات اور داستانیں اس براعظم افریقہ کی فضاؤں سے وابسطہ ہیں جو بدلتے ہوئے زمانہ کے ساتھ قصہ پارینہ بن چکی ہیں۔
حضرت عقبہؒ بن نافع ؓنے افریقہ کو فتح کیا تھا
حضرت مولانامفتی محمد تقی عثمانی دامت برکاتہم نے اپنے سفرنامہ ’’جہاندیدہ‘‘ میں تحریر فرمایا ہے : اس علاقہ کی فتح کا اصل سہرا حضرت عقبہ بن نافع ؓ کے سر ہے جو صحابی تو نہ تھے لیکن آنحضرت ﷺ کی ولادت مبارک سے ایک سال قبل پیدا ہوئے تھے۔ مصر