اللہ عنہم ۔۔۔۔ و لنا عموم قولہ عز وجل: الطلاق مرتان إلی قولہ سبحانہ و تعالی فان طلقہا فلا تحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ۔ من غیر فصل بین السکران و غیرہ الا من خص بدلیل ۔۔۔۔۔ و لان عقلہ زال بسبب ہو معصیۃ فینزل قائماً عقوبۃ علیہ و زجراً لہ عن ارتکاب المعصیۃ و لہذا لو قذف انساناً او قتل یجب علیہ الحد و القصاص و انہما لا یجبان علی غیر العاقل دل ان عقلہ جعل قائما و قد یعطی للزائل حقیقۃ حکم القائم تقدیرا اذ ازال بسبب ہو معصیۃ للزجر و الردع کمن قتل مور ثم انہ یحرم المیراث و یجعل المورث حیًا زجرا للقائل و عقوبۃ علیہ۔
پس صورت مسئول عنہا میں جب کہ زید نے اپنی زوجہ کو نہایت نشہ کی حالت میں بھی تین بار طلاق دی ہے تو طلاق ثلاثہ واقع ہوگی۔ وَاللّٰہُ اَعْلَمُ بِالصَّوَابِ۔
الفاظِ کنائی سے طلاق کا حکم
الاستفتاء: کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ عزیز النسا بیگم کا نکاح بحالت نا بالغی ہوا ،اس کے والد کی مرضی کے خلاف اس کے نانا نے محمد یوسف کے ساتھ کردیا نکاح کے بعد یہ معلوم ہونے پر کہ شخص مذکور صحیح النسب نہیں ہے عزیز النسا بیگم اپنے نانا کے گھر آگئی اور دس سال سے یہیں پر ہے اس عرصہ میں اس نے نفقہ نہیں دیا، اور نہ کسی قسم کی خبر گیری کی ادھر والد اور نانا کا انتقال ہوگیا۔ اور محمد یوسف نے دوسرا عقد کرلیا جس سے اس کو اولاد بھی ہے، ان حالات کی بنا پر عزیز النسا بیگم نے اپنے بھائی اور ماموں کو تصفیہ کے لیے محمد یوسف کے پاس بھیجا، تو اس نے نفقہ دینے