ہندوستان میں تدریس فقہ واصول فقہ –فنی اورتاریخی نقطۂ نظر سے
فقہ اسلامی ایک مکمل قانون ہے، جس میں انسان کی ہرچھوٹی بڑی ضرورت کے لیے ہدایات موجود ہیں، انسانی زندگی کاکوئی گوشہ ایسا نہیں جس پر اس سے روشنی نہ پڑتی ہو، بلکہ زندگی کے ساتھ قبل ازولادت اوربعد ازموت کی تفصیلات بھی یہاں موجودہیں،۔۔۔۔۔اس کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ قدرت کی طرف سے اس کو ارادۂ خیر کی علامت قرار دیا گیا ،من يرد الله به خيرا يفقهه في الدين(صحيح البخاري ] ص ۳۹ ج ۱ حد :۷۱ ،المؤلف : محمد بن إسماعيل أبو عبدالله البخاري الجعفي الناشر : دار ابن كثير ، اليمامة – بيروت الطبعة الثالثة ، 1407 – 1987)فقہ اسلامی ایک مکمل قانون اور زندہ فن اسی لئے فقہ اسلامی ایک انتہائی مشکل موضوع ہے جس میں ہر دور کے بہترین دماغ خرچ ہوئے ہیں اور امت کے ذہین ترین لوگوں نےاس پر کام کیا ہے،دیگرعلوم وفنون کی طرح اس کی فنی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے لیکن اصل چیز جس نے ہر دور میں اس کو زندہ فن کے طور پر باقی رکھا ہے اور جس میں دنیا کا کوئی علم وفن اس کا مقابلہ نہیں کرسکتا وہ ہے حالات زمانہ پر اس کی تطبیق کا مسئلہ،یہ محض ایک فن نہیں ہے جو تحقیق وریسرچ کی چہاردیواریوں میں محدود رہے بلکہ دنیا کی قیادت اس کے ہاتھ میں ہے،احوال زمانہ پر اس کی نظر ہے،سوسائٹی کا نظم وضبط اس کے ذمہ ہے،نظام اخلاق کی باگ ڈور اس کے پاس ہے،احوال وظروف کی تشکیل میں اس کا بڑا حصہ ہے،…………اسلامی قانون اخلاق اور انسان کی پرائیوٹ لائف سے بھی بحث کرتا ہے اور سیاسی اور اجتماعی نظام سے بھی،اسلامی قانون انسانی دنیا کے لئے خدا کا شاندار عطیہ ہے،انسانوں کا بنایاہوا کوئی قانون اس کی ہمسری نہیں کرسکتا،جب تک دنیاپر اسلامی قانون کی حکمرانی قائم رہی دنیا میں امن وسکون اور خوشحالی وفارغ البالی بھی پورے طور پر باقی رہی لیکن جب سے دنیا اس قانون کے سایہ سے محروم ہوئی ہے بد امنی،بد چلنی،غربت وبھوک مری عام ہوئی، محبت ورواداری نے دم توڑدیا،انسانی قدریں پامال ہوئیں،سارافلسفہ ٔاخلاق کتابوں کے اوراق تک محدود ہوکر رہ گیا،عام زندگی سے اس کا کوئی تعلق باقی نہیں رہ گیا،قانون کو بازیچۂ اطفال بنادیا گیا، قانون کو اپنی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ بنا لیا گیا،دنیانے اسلامی قانون سے محرومی کیا گوارا کی، زندگی کی ساری رونقوں سے محروم ہوگئی،آج دنیا کو پھر اسی قانون کی ضرورت ہے،
فقہ اسلامی کی تعلیم وترویج میں مدارس اسلامیہ کا کردار
اللہ کا کرم ہے کہ بر صغیر کے مسلمانوں کا مدارس دینیہ کے توسط سے فقہ اسلامی کے اس عظیم سرچشمہ سے مضبوط رشتہ قائم ہے ،اور