کریں ’’رَبَّنَا لِیُقِمُوا الصَّلاَۃَ فَاجْعَلْ أَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہْوِیٓ إِلَیْہِمْ‘‘اور لوگوں کے دلوں کوان کی طرف متوجہ کردے تاکہ لوگ ان کی طرف آئیں ’’وَارْزُقْہُمْ مِّنَ الثَّمَرَاتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرْونَ‘‘(۱)اور تو ان کو پھل فروٹ بھی یہاں عطا فرما تاکہ یہ تیرا شکر اداکریں ، یہ سب دعائیں مانگ رہے ہیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کس کے لیے؟ اولاد کے لیے ، اپنے بیٹے کے لیے۔
پھر آگے حضرت ابراہیم علیہ السلام کہتے ہیں ،جس کوقرآن میں تفصیل کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ الَّذِیْ وَہَبَ لِیْ عَلَی الْکِبَرِ اِسْمٰعِیْلَ وَاِسْحَاقَ اِنَّ رِبِّی لَسَمِیْعُ الدُّعَائَ، رَبِّ اجْعَلْنِیْ مُقِیْمَ الصَّلاَۃِ وَمِنْ ذُرِّیَّتِیْ رَبَّّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَائَ‘‘(۲)ساری تعریفیں اس اللہ کے لیے ہے جس نے مجھے بڑھا پے میں اسماعیل اور اسحاق دیااور میرا رب تو سننے والا ہے ، دعا کوقبول کرنے والا ہے، اے میرے پروردگار مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم کرنیوالا بنا،اور اے اللہ ہماری دعا بھی قبول فرما،یہ سب دعائیں مانگ رہے ہیں ، توان سب دعاؤں کامنشاء ، ان سب دعاؤں کا مقصد یہ ہے کہ ان کی اپنی اولاد اور اپنی بیوی بچوں کو راحت وسکون حاصل ہو جائے ، اس لیے اپنی بیوی بچوں کے آرام کی خاطر پیغمبر ان کی ایک ایک چیز کا خیال کرکے دعائیں مانگ رہے تھے ،انسان کاایک فریضہ بنتاہے کہ اپنی اولاد کی اچھے انداز سے تربیت کرے ،تاکہ وہ اس کی آنکھوں کی ٹھنڈک بنے اور اسلام نے اس کی تعلیم دی ہے۔
بچہ کی پیدائش کے بعد اذان وتکبیر کہی جائے
جب بچہ پیدا ہوتوپہلے اس کے داہنے کان میں اذان اور بائیں کان میں تکبیر( اقامت ) کہی جائے تاکہ اس کو پتہ چل جائے کہ کوئی ہے پیدا کرنیوالا، کوئی ہے اللہ جس نے بنایاہے، جو خالق ہے جومالک ہے، جس نے تمہیں پیدا کیاہے اورزمین وآسمان کوپیدا