اسلامی لائبریری میں ایک وقیع اضافہ
حضرت مولانا مفتی محمد جمال الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم

صدر مفتی وشیخ الحدیث جامعہ دار العلوم حیدرآباد
زیر ِ نظر کتاب ’’نماز کے لئے بچوں کو مسجد میں لانے کا شرعی حکم‘‘ ایک علمی اوراصلاحی کتاب ہے،جومولانا مفتی سعید الظفر قاسمی زید علمہ وفضلہ کی تصنیف ِ لطیف ہے، آپ ایک نوجوان عالم ِ دین ہیں ،صاف ستھرا علمی ذوق رکھتے ہیں ، مسائل کی تہہ تک پہونچنے کی سنجیدہ کوشش کرتے ہیں ،اسی کے ساتھ حالات ِ زمانہ پر بھی آپ کی نگاہ رہتی ہے،جو ایک ذمہ دار مفتی کے لئے لازم ہے۔
آپ کے شہر میں بچوں کو مسجد میں لانے نہ لانے کے تعلق سے آپس میں اختلاف رونما ہوااور دونوں طرف افراط وتفریط سے کام لیا جانے لگاتو آپ کے متعلقین ومنتسبین نے ایک استفتاء مرتب کرکے آپ کی خدمت میں پیش کیا اور آپ کی رائے جاننی چاہی ہے،اسی استفتا کا یہ مفصل جواب ہے ۔
آپ نے اس کتاب میں بچوں کو مسجد میں لانے نہ لانے کے تعلق سے اسلام کے پیش کردہ موقف کو واضح کیا ہے ، اس میں یہ بتایا ہے کہ جو بچے سن شعور کو نہ پہونچے ہوں ، مسجد اورنمازکے آداب سے واقف نہ ہوں ان کو مسجد میں نہ لایاجائے،ان کے شور وشغب اور دیگر حرکات سے مصلیوں کی نماز خراب ہوگی؛ البتہ جو بچے سن ِ شعور کو پہونچ چکے ہوں ،وہ مسجد کے آداب سے واقف ہوں ،نماز کا طریقہ بھی جانتے ہوں ان کو مسجد میں لانا چاہئے ؛ تاکہ وہ خیر کی طرف مزید راغب ہو سکیں اور دوسرے بچوں کے دیکھا دیکھی اگر ان کے بھی شور وشغب میں حصہ لینے کا اندیشہ ہو تو ان کے سرپرست کو چاہئے کہ اپنے بازو ان کو کھڑا کرلیں ؛ تاکہ دوسرے