غیبت اسے کہتے ہیں کہ تم اپنے بھائی کی ایسی بات کا ذکرکروجس کووہ ناپسند کرتا ہے یعنی اس کے کسی عیب کوبیان کروصحابہ  رضوان اللہ علیہم اجمعین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگرہم ایسی بات بیان کریں جو اس میں موجود ہے توکیایہ بھی غیبت ہے حضور  صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایایہی توغیبت ہے ،اگراس میں وہ برائی ہے ہی نہیں جو تم نے بیان کی ہے تویہ تہمت اوربہتان ہے جواس پرتم نے باندھا۔
قرآن کریم میں غیبت کرنے والے کو مردار خور سے تعبیر کیا گیا وَلَا یَغْتَبْ بَعْضُکُمْ بَعْضًا۔ اورتم میں کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ  یَّأکُلَ لَحْمَ اَخِیْہٖ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ۔ کیا تم میں کوئی پسندکرے گاکہ اپنے مرے ہوئے بھائی کاگوشت کھائے تم خودہی اس کو ناپسند کرو گے۔ اس لئے کسی کی غیبت نہیں کرنی چاہئے جس کی غیبت کی جاتی ہے اس کا تو فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ جتنی اس کی غیبت کی جاتی ہے اتنے ہی اس کے نامۂ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور غیبت کرنے والے کا نامۂ اعمال سیاہ اور کالا ہو جاتا ہے۔
امام اعظم ابوحنیفہ  رحمۃ اللہ علیہ کاایک پڑوسی تھا جوامام صاحب کوبہت برابھلاکہا کرتاتھااورامام صاحب اس کوتحفہ دیاکرتے تھے، اس کوشرم آئی کہ میں توگالیاں دیتا ہوں اور یہ مجھے تحفے دے رہے ہیں، چنانچہ اس نے گالیاں دینی بند کردیں، تو حضرت امام صاحب نے اسے تحفہ دینابندکردیا،اس نے کہا کہ حضرت جب میں آپ کو گالی دیا کرتا تھا تو آپ تحفے دیتے تھے جب گالی دینی بندکردیں توآپ نے تحفے دینا بند کردیئے؟ حضرت امام صاحب  رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایاکہ جب تومجھے گالیاں دے رہا تھا تومجھے نیکیاں مل رہی تھیں اسلئے میں تجھے تحفہ پیش کر رہا تھا،جب تونے نیکیاں بندکردی تومیں نے بھی تحفہ بھی دینابندکردیا۔