نہ یہ امتیاز جسامت کے لحاظ سے ہے اس لئے کہ ہاتھی انسان کے مقابلہ میں درندے اس سے کہیں زیادہ بہادر اور شجاع ہوتے ہیں، زیادہ کھانا بھی انسان کے لئے شرافت کی علامت نہیں اس لئے کہ بیل انسان سے زیادہ کھاتا ہے، قوت جماع بھی وجہ شرف نہیں اس لئے کہ ننھی منی چڑیاں انسان سے زیادہ جماع کرلیتی ہیں، اس کا اشرف صرف علم ہے، بعض دانشوروں کا قول ہے کہ ہمیں کوئی یہ بتلادے کہ جس کو علم نہ ملا اسے کیا ملا او رجسے علم مل گیا اسے کیا نہیں ملا۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اے لوگو! علم کے لئے کمر بستہ ہوجائو، اللہ کے پاس ایک ردائے محبت ہے جو شخص علم کی طلب رکھتا ہے اللہ تعالیٰ وہ چادر اسے اڑھادیتا ہے ، چنانچہ اگر وہ شخص کسی گناہ کا ارتکاب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے رضا جوئی کرالیتا ہے۔
امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کی رائے میں علم کی اہمیت یہ ہے کہ جس شخص کی طرف اس کا انتساب ہو خواہ کسی معمولی چیزہی میں کیوں نہ ہو اس پر خوش ہو اور کسی بھی چیز میں اپنی ذات سے علم کی نفی پر رنجیدہ ہو۔
بعض حکماء سے منقول ہے کہ جو شخص حکمت ودانائی کو اپنی لگام بناتا ہے لوگ اسے اپنا امام بنالیتے ہیں ، جو شخص علم وحکمت میں مصروف ہوتا ہے لوگ اسے عزت واحترام کی نظر سے دیکھتے ہیں۔
زبیر ابن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں عراق میں تھا، میرے والد نے مجھے لکھا، بیٹا علم حاصل کرو، اس لئے کہ مفلسی میں یہ تیرا مال ہوگا اور تونگری میں زینت۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں طالب علم تھا تو ذلیل تھا، اب لوگ میرے پاس علم سیکھنے کے لئے آنے لگے تو میں عزت والا ہوگیا۔