اورشفیق عورت سے دی جاتی ہے۔چڑیوں کی آواز کی تعبیر عمدہ کلام یاراست علم ہے۔
ایک شخص ابن سیرینؒ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میں چڑیوں کے بازوپکڑکر اپنے کمرے میں بندکررہاہوں۔ابن سیرینؒ نے اس شخص سے پوچھاکہ کیاتجھے کتاب اللہ کا علم ہے؟ اس شخص نے کہا،ہاں۔ تو ابن سیرینؒ نے اس سے کہا کہ مسلمانوں کے بچوں کے بارے میں اللہ سے خوف کر،ایک اور شخص ابن سیرینؒ کے پاس آیا اور کہا کہ میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میرے ہاتھ میں چڑیاہے اور میں نے اس کو ذبح کرنے کا ارادہ کرلیاتو اس چڑیانے کہا کہ تیرے لئے مجھے کھانا حلال نہیں ہے۔
ابن سیرینؒ نے تعبیر دیتے ہوئے کہا کہ تو صدقہ کا مستحق ہوتے ہوئے بھی صدقہ وصول کرتاہے۔اس شخص نے کہا کہ آپ میرے بارے میں ایسی بات کہہ رہے ہیں۔ ابن سیرینؒ نے جواب دیا کہ ہاں اور اگر توکہے تو میں صدقہ کے ان دراہم کی تعداد بھی بتادو جو تیرے پاس ہیں۔ اس شخص نے کہا کہ بتائیے۔ ابن سیرین نے کہاکہ وہ چھ دراہم ہیں، اس شخص نے کہا کہ آپ نے سچ فرمایایہ دیکھئے میرے ہاتھ میں ہیں اور اب میں توبہ کرتاہوں کہ آئندہ کبھی صدقہ نہ لوں گا۔بعدمیں ابن سیرینؒ سے پوچھا گیاکہ آپ نے یہ تعبیر کیسے اخذکی تو ابن سیرینؒ نے کہا کہ چڑیاخواب میں سچ بولتی ہے اور اس کے چھ اعضاء ہیں اورچڑیاکے قول ’’لاَ یَحِلُّ لَکَ اَنْ تَاْکُلْنِیْ‘‘ سے میں نے یہ سمجھایہ شخص اس مال کو حاصل کرتاہے جس کا یہ مستحق نہیں ہے۔
ایک شخص جعفر صادق رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور بیان کیاکہ میں نے خواب میں دیکھاہے کہ میرے ہاتھ میں ایک چڑیاہے۔ حضرت جعفرؓ نے فرمایاکہ تجھے دس دینار حاصل ہوں گے۔وہ شخص یہ تعبیر سن کر چلاگیاتو اس کو نو دینار حاصل ہوئے۔اس نے واپس آکر حضرت جعفرؓ سے بیان کیا کہ میرے ہاتھ میں ایک چڑیاہے میں نے اس کو پلٹ کر دیکھا تو اس کے دم نہیں ہے۔حضرت جعفرؓ نے فرمایاکہ اگر اس کے دم ہوتی تو پورے دس دینارحاصل ہوتے۔(تعبیرالرویاء۔ علامہ ابن سیرینؒ)