۲۰۰۳ء صبح۹؍بجے آخری رکعت کے آخری سجدہ میں ہوا۔ اس وقت بندہ ساؤتھ افریقہ کے سفر پرتھاحضرت علیہ الرحمہ کے وصال کی خبر پہونچی بے انتہا رنج وملال ہوا آپ کو ایصال ثواب کیا اور ایسا غم اور دکھ دل میں ٹھہر گیا کہ کسی بھی وقت حضرت کو نہیں بھولتاتھاہ ایک شب میں نے خواب دیکھا کہ حضرت حاذق الامت ؒ نہایت جوان اور خوب تندرست ہیں اپنی خاص وضع قطع کے ساتھ چل رہے ہیں میں دوڑ کر حضرت کے قریب گیا اور مصافحہ کیا گلے ملا اور پوچھا کہ حضرت آپ کا تو انتقال ہوگیا تھا آپ کیسے واپس تشریف لائے ؟ فرمایا تم سے ملاقات کے لئے آیا ہوں پھر میں نے عرض کیا کہ حضرت آپ کہاں رہتے ہیں ؟ مجھے بھی وہ جگہ دکھائیے تاکہ میں آپ سے ملاقات کرلیا کروں اس پر حضرت نے کہا آو، میں تمہیں ایک چیز دکھاتاہوں اتنے میں منظر بدل جاتاہے اور ایک عالی شان دروازہ آجاتاہے اس پر خوبصورت پتھروں کا فرش ہے حضرت نے ایک بڑا پتھر ایسے اٹھایا کہ جیسے کوئی ڈھکن ہوتاہے فرمایا اندر دیکھو ، میں نے جھک کر اندر دیکھا تو عالی شان محل ہے ، عرض کیا کہ حضرت یہ کس کا ہے ؟ فرمایا یہاں میرے داداحضرت قاضی بشیر الدین احمد صاحب ؒرہتے ہیں۔ پھر فرمایا آؤ جلدی آؤ ابھی ایک چیز اور دکھلاؤں۔ میں حضر ت کے پیچھے پیچھے چلا تو ایک عالی شان دروازہ پھر آگیا حضرت نے خوبصورت فرش کو ایک بڑے صندوق کے ڈھکن کی طرح اوپر اٹھایا اور فرمایا اندردیکھو میں نے جھک کر دیکھا تو وہ بھی ایک نہایت خوبصورت محل تھا۔ میں نے کہا حضرت یہ کس کا ہے ؟ فرمایا یہ میرے والد حضرت حکیم عبد الباری صاحبؒ کا محل ہے وہ اس میں رہتے ہیں ۔ میں نے کہا حضرت آپ کہاں رہتے ہیں اتنے میں منظر بدل جاتاہے اور خانقاہ قدوسیہ رشیدیہ گنگوہ سامنے آجاتی ہے حضرت حاذق الامت ؒ خانقاہ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒکی نشست گاہ پر بیٹھے ہیں سہ دری میں، اور فرمارہے ہیں میں تو یہاں آگیا ہوں اور اب یہیں رہتاہوں تم یہاں ملنے کے لئے آجایا کرو۔آنکھ کھل گئی بندہ نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ حضرت مولانا حکیم زکی الدین حمد صاحب ؒ کو اللہ تعالی نے اپنے سلسلہ کے جملہ اکابرجیسی مقبولیت عطا فرمادی اور جنت میں ان کی جماعت میں آپ کو شامل فرمالیا۔ اللہ تعالی حضرت