اسلام دینِ فطرت ہے، اس کا قانون محنت واجرت اخوت وبھائی چارہ پر مبنی ہے، دین نام ہے خیر خواہی کا اور جذبۂ خیر خواہی زندگی کے ہر میدان میں ضروری ہے۔
مالک اورملازم کے درمیان خوشگوار تعلقات ضروری

ارشاد فرمایا:اسلام نے مالک اور مزدور کے مابین خوشگوار تعلقات کے لئے بنیادی احکام دیئے ہیں۔آج کے مغربی طرز زندگی میں یہ بات سب کومعلوم ہے کہ فیکٹری ۔ کمپنی یاادارہ  کے ذمہ داران لیبرس کو اپنے مفاد کیلئے استعمال کرتے ہیں اور چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو پکڑ کر ان کی نشاندہی کرکے مزدوروں کی تنخواہ کو کم کردیا جاتا ہے۔ اور ایسے سخت قانون بنا ئے جاتے ہیں کہ جن کی اطاعت میں مزدور طبقہ مشغول رہے اور اس کو اپنا مستقبل بنا نے اور سنوارنے کا موقع نہ مل سکے۔
مالک نوکر سے بھائی جیسا سلوک کرے

فیکٹریوں اور کمپنیوں میں اختلافات آئے دن سامنے آتے رہتے ہیں کسی نے اس کے متعلق سوال کیا توارشاد فرمایا:مالک جب اپنے نوکر اور ملازم کے ساتھ اپنے بھائی جیسا سلوک کرے گا اور اس سے اخوت ومحبت کا برتاؤ کرے گا ، توملازم مالک کے خلاف بغاوت نہیں کرے گا ۔ بلکہ وہ مالک کے غیب میں اس کے ورثہ اور اس کے مال کی حفاظت کرے گا ۔ اس کو مالک کے نقصان کا دکھ ہوگا ، رنج ہوگا ۔ وہ کسی صورت میں مالک کو نقصان پہونچانے کے درپے نہیں ہوسکتا ۔
حقوق العباد ادا کئے بغیر معاف نہیں ہوتے

ارشاد فرمایا:اس دور میں ایسے لوگوں کی کمی نہیں ہے کہ وہ اپنا کام تو وقت پر کرالیتے ہیں اور مزدور کی مزدوری وقت پرادا نہیں کرسکتے ۔ مزدور با ر بار چکر لگاتار رہتا