عربی زبان کی لغت المنجد کے مطابق :
العالم باللغات والآداب والعلوم الشرقیۃ والإسم الإستشراق ۔ (۱)
’’مشرقی زبانوں ، آداب اور علوم کے عالم کو مستشرق کہا جاتا ہے اور اس علم کا نام استشراق ہے۔
تعریفات کا تحقیقی جائزہ
ان تمام تعریفوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مشرقی علوم و ثقافت اور ادب کا مطالعہ استشراق کہلاتا ہے، لیکن اگر اس مفہوم کو مان لیا جائے تو چند سوال پیدا ہوتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ دنیا میں اس وقت اسلام کے علاوہ دو بڑے مذاہب یہودیت اور عیسائیت ہیں ۔ ان دونوں مذاہب کے انبیاء اور ان کے ابتدائی پیرو کاروں کا تعلق مشرق سے ہے۔ تورات و انجیل میں بیان کئے گئے تمام حالات و واقعات اور مقامات کا تعلق بھی مشرق سے ہے۔ لیکن اس کے باوجود بائیبل یا عیسائیت و یہودیت کے عالمانہ مطالعے کو کوئی بھی استشراق کے نام سے موسوم نہیں کرتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ استشراق کی اس تحریک کے مقاصد سراسر منفی ہیں ، مستشرقین اپنے ان مقاصد کو پوشیدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کا بنیادی مقصد اسلام اور اس کی تعلیمات کا صرف تحقیقی مطالعہ نہیں ، بلکہ ان تعلیمات کو شکوک و شبہات سے دھندلا کرنا، مسلمانوں کو گمراہ کرنا اور غیر مسلم لوگوں کے سامنے اسلام کا منفی تصور پیش کرکے انہیں اسلام قبول کرنے سے روکنا ہے۔ (۲)
لفظ استشراق کی تاریخ
لفظ استشراق کی کوئی قدیم تاریخ نہیں ہے۔ یہ ایک نیا لفظ ہے جو پرانی لغات میں سرے سے نہیں ملتا۔ اے جے آربری (1979-1905) "Arthur John Arberry کے مطابق لفظ استشراق "Orientalist"پہلی بار 1638ء میں یونانی کلیسا کے ایک پادری کے لئے استعمال ہوا۔
میکسم روڈ نسن (Maxime Rodinson (1915-2004) کے مطابق استشراق کا لفظ انگریزی زبان میں ۱۸۳۸ء میں داخل ہوا اور فرانس کی کلاسیکی لغت میں اس کا اندراج 1799ء میں ہوا۔(۳)
استشراق کی ابتداء
یہ بات یقینی طور پر تو نہیں معلوم ہے کہ کون سا وہ مغربی شخص ہے جو مشرقی علوم کے مطالعہ کی طرف سب سے پہلے متوجہ ہوا اور نہ ہی اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ کس وقت مغرب کے لوگوں نے مشرقی علوم کے مطالعہ کا آغاز کیا ۔ لیکن تاریخی حقائق سے ان باتوں کا ضرور انکشاف ہوتا ہے کہ بعض مغربی راہب اندلس
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱)المنجد،ص: ۵۱۳(۲)تاریخ استشراق ، ص: ۳۱۵(۳)ایضاً