بڑی لائبریریوں سے کتابوں کی خرد برد میں مشغول ہوگئے۔ کیونکہ یہ کتب خانے نہایت ہی بدنظمی کے شکار تھے اس طرح عربی کے نادر مخطوطات کو انہوں نے اپنے ملک کی لائبریریوں میں منتقل کرلیا اور ان کی لائبریریاں عربی کے نایاب مخطوطات سے پر ہوگئیں انیسویں صدی کے آغاز تک ان مخطوطات کی تعداد دولاکھ پچاس ہزار تک پہونچ گئی اور اب بھی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔(۱)
پہلی کانفرنس
مستشرقین نے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے انیسویں صدی کی آخری چوتھائی ۱۸۷۳ء؁ میں پیرس "Paris"میں اپنی پہلی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ (۲)
مشرق کے ادیان و مذاہب، تہذیب و ثقافت اور علوم و فنون کی تحقیق و تدقیق میں کانفرنسز منعقد ہوتی رہیں اور یہ سلسلہ آج بھی مسلسل جاری ہے۔
میدان استشراق
استشراق کا آغاز صرف عربی زبان اور اسلام جیسے مذہب کے مطالعہ سے ہوا۔ لیکن اس استشراق کا دائرہ مشرق میں مغربی سامراجیت کے زور پکڑنے کے بعد اتنا وسیع ہوگیا کہ مشرق کے تمام مذاہب ان کی عادات و تقالید، رسم و رواج، تہذیب و ثقافت، زبان وبیان اور اس کے جغرافیائی علم کی تحقیق پر محیط ہوکر اختتام پذیر ہوا۔ لیکن وسعت ِتحقیق کے باوجود استشراق کا مطمح نظر اسلام، عربی زبان وادب اور اسلامی تہذیب و ثقافت ہی رہا۔ان دینی اور سیاسی اسباب کو مدنظر رکھتے ہوئے جن اسباب نے مستشرقین کو مشرقی علوم کی تحقیق پر آمادہ کیاہم بعد میں ان کو تفصیلی طور پر ذکر کریں گے انشاء اللہ ۔ (۳)
٭٭٭
(۱) استشراقی فریب ، ص: ۳۸
(۲) تاریخ استشراق ، ص: ۷۶
(۳) ایضاً