بات ہر چند خدا کی قدرت سے باہر نہیں کہ اچھوں کو بری چیز دے اور بروں کو اچھی، پر اچھی چیزوں کو اچھوں کے لئے بنایا ہے اور بری چیزوں کو بروں کے لئے جو جو چیزبالکل اچھی ہے، وہ اچھوں ہی کے لئے ہے، اور جو چیز بالکل بری ہے، وہ بروں کے لئے ہے، اور جو چیز برائی بھلائی سے مرکب ہے، وہ قابل اس کے ہے کہ اسے توڑ پھوڑ کر بری کو بھلی سے جدا کرکے ہر ایک کو اپنے اپنے موقع پر پہنچایا جائے۔
سوچوں کہ اس عالم کی ترکیب بھلی اور بری دونوں کے مجموعے سے ہے اور نیز ہر ہر چیز کی یہی ترکیب ـچناں چہ زمین کا کچھ تھوڑا سا حال سن کر سب کو یقین ہوگیا ہو گاـ تو اس لئے ہم کو یہ توقع ہے کہ خداوندِ عادل اس کو بھی توڑ پھوڑ کر بھلی اور بری کو جدا کرکے ہر ایک کو اپنے اپنے موقع پر پہنچا دے، سو من جملۂ عالم اچھی غذاؤوں کو تو تمام فضلات سے پاک کرکے اچھوں کو کھلائے اور اچھوں کو کہیں ایسی جگہ پہنچائے، جہاں برائی کا نام نہ ہو اور جس میں رنج اور تکلیف کا نشان نہ ہو، اورشاید اسی جگہ کا نام بہشت ہو، جیسا کہ مشہور ہے
بہشت آں جا کہ آزارے نہ باشد
کسے را با کسے کارے نہ باشد
اور علی ہذا القیاس، بروں کو کہیں ایسی بری جگہ پہنچا دے، جس میں بھلائی اورآرام کا نام نہ ہو، اور اسی کو دوزخ کہتے ہوں ۔(١)
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(١) روح ہر چیز میں ہے فرق صرف اتنا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ انسان کی روح بہت سی چیزوں کاخلاصہ ہو، اور پتھر وغیرہ کی روح بس اسی کا خلاصہ ہو، اور انسانی جسم میں اس روح کی شکل یہ ہو کہ فضلہ اس سے جدا ہوگیا ہو اور وہ ہوا کی صورت میں موجود ہو اور پتھر کی روح اور خلاصہ فضلہ کے ساتھ ہو بلکہ فضلہ ہی کا نام بدن ہو اوردونوں آپس میں ایسے خلط ملط ہوں جیسے گنا اور رس آپس میں خلط ملط ہوتے ہیں اور اسی روح کی وجہ سے پتھر وغیرہ کو بھی آرام اورتکلیف کا احساس ہوتا ہو، اتنی بات تو طے ہے کہ انسان، حیوان اور نباتات و جمادات سب میں روح ہے، البتہ انسانی روح، روح ہوائی میں ہے اوردیگر چیز کی روح ہوائی میں نہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کی غذا ئیں عمدہ ہیں اورعمدہ غذاؤں کا خلاصہ بھی یقینا عمدہ ہی ہوگا پھر جو خوبی حیوانات کی ہوائی روح میں ہے وہ درختوں کی روحوں میں نہیں کیوں کہ حیوانات کی روح ہوائی درختوں کا خلاصہ ہے اور درختوں کی روح میں وہ خلاصہ زمین کے اجزاء کا ملا جلا ہے علیٰ ہذا القیاس جو بات درختوں کے خلاصہ میں ہے وہ زمین کے اجزاء کے خلاصہ میں نہیں ہے، بہر حال راب العزت کی حکمت کا ہی یہ سارا کرشمہ ہے کیا بعید کہ اچھوں کے لئے اچھی چیزیں بنائی ہوں اوربروں کے لئے بری چیز اور اس کے برعکس بھی اس کے لئے کچھ ممتنع نہیں ، اس عالم کی ترکیب اچھی اوربری دونوں چیزوں کے مجموعہ سے ہے بالآخر وہ اس عالم کوتوڑ پھوڑ کر اچھی اور بری چیز کو الگ الگ کرکے ہر ایک کو اپنے مناسب مقام پر پہنچا دے، اور جس مقام پر اچھائی پہونچ جائے وہ اچھوں کا ٹھکانہ ٹھہرے جسے'' بہشت ''کہتے ہیں ، اور جہاں برائی پہونچ جائے وہ بروں کا ٹھکانہ قرار پائے جسے'' دوزخ'' کہتے ہیں ۔
خ… خ…خ