مُّسَمّٰی سے وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌتک، ان دونوں کا عام فہم ترجمہ لکھے دیتا ہوں ، اسے پڑھ کر اندازہ کیجئے کہ اُدھار کے معاملات کا حق تعالیٰ کو کتنا اہتمام ہے ، اور یہ کہ اﷲ تعالیٰ اہل ایمان پر کتنے مہربان ہیں کہ روز مرہ کے معمولی مسائل پر بھی اتنی تفصیل سے ہدایت دی تاکہ مسلمانوں کے معاشرہ میں قلبی محبت باقی رہے ، اور باہم اختلاف نہ ہو ، آیت کا ترجمہ پڑھئے !
’’ مسلمانو! جب کبھی ایسا ہوکہ تم خاس میعاد کے لئے اُدھار لینے دینے کا معاملہ کرو ، تو چاہئے کہ لکھا پڑھی کرلو ، اور تمہارے درمیان ایک لکھنے والا ہو ، جو دیانت داری کے ساتھ دستاویز قلمبند کردے ، لکھنے والے کو اس سے گریز نہیں کرنا چاہئے کہ جس طرح اﷲ نے اسے ( دیانت داری کے ساتھ ) لکھنابتادیا ہے ، اس کے مطابق لکھ دے ، اسے لکھ دینا چاہئے ، لکھا پڑھی اس طرح ہو کہ جس کے ذمے دینا ہے وہ مطلب بولتا جائے ( اور کاتب لکھتا جائے ) اور چاہئے کہ ایسا کرتے ہوئے اپنے پروردگار کا خوف دل میں رکھے ، جو کچھ اس کے ذمے آتا ہے اس میں کسی طرح کی کمی نہ کرے ، ٹھیک ٹھیک لکھوادے ، اگر ایسا ہوکہ جس کے ذمے دینا ہے وہ بے عقل ہو یا ناتواں ہو ( یعنی لین دین کے معاملہ کی سمجھ نہ رکھتا ہو ) یا اس کی استعداد نہ رکھتا ہو کہ خود کہے اور لکھوائے ، تو ا س صورت میں چاہئے کہ اس کی جانب سے اس کا سرپرست ، دیانت داری کے ساتھ مطلب بولتا جائے اور ( جو دستاویز لکھی جائے اس پر ) اپنے آدمیوں میں سے دو آدمیوں کو گواہ کرلو ، اگر دو مرد نہ ہوں تو پھر ایک مرد اوردوعورتیں جنھیں تم گواہ پسند کرو، کہ اگر ایک ( گواہی دیتے ہوئے ) کچھ بھول جائے گی ، تو دوسری یاد دلادے گی ، اور جب گواہ طلب کئے جائیں ، تو گواہی دینے سے وہ بچنا نہ چاہیں ، اور معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ، جب تک میعاد باقی ہے ، دستاویز لکھنے میں کاہلی نہ کرو ، اﷲ کے نزدیک اس میں تمہارے لئے انصاف کی زیادہ مضبوطی ہے ، اور شہادت کو اچھی طرح قائم رکھنا ہے ، اوراس بات کا حتی الامکان بندوبست کردینا ہے کہ (آئندہ) شک وشبہ میں نہ پڑو،