بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
اخترامام عادل قاسمی
مہتمم جامعہ ربانی منوروا شریف ،بہار
ماحولیاتی آلودگی –احکام ومسائل
انسان جس آب و ہوا میں سانس لیتا ہے اور جس ماحول میں زندگی گذارتا ہے اس کی شفافیت اور پاکیزگی بے حد ضروری ہے ،اس سے خود انسان کی بلکہ زمینی تمام جانداروں کی صحت وحیات وابستہ ہے، لیکن ادھر کئی برسوں سے فضائی آلودگی ایک عالمی مسئلہ بنی ہوئی ہے ،ماہرین اور اہل تحقیق نے اس کو اس دور کا انتہائی سنگین مسئلہ قرار دیا ہے ۔
موجودہ زمانہ میں آلودگی- محققین کی نگاہ میں
اس کی حساسیت اور عالمگیریت کا اندازہ ان رپورٹوں سے ہوتا ہے جو بی بی سی اور دیگرعالمی ذرائع ابلاغ نے مختلف وقتوں میں شائع کی ہیں ،بی بی سی کی مختلف رپورٹوں سے چند اقتباسات ملاحظہ فرمائیں :
"عالمی ادارۂ صحت نے فضائی آلودگی کو دنیا میں صحتِ عامہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے،ایک نئی تحقیق کے مطابق یہ آلودگی دنیا میں مرنے والے ہر آٹھویں فرد کی موت کی وجہ ہے اور اس کی وجہ سے دنیا بھر میں صرف سنہ 2012 میں 70 لاکھ افراد ہلاک ہوئے ان ہلاکتوں میں سے بیشتر جنوبی اور مشرقی ایشیا کے غریب اور متوسط درجے کے ممالک میں ہوئیں اور نصف سے زیادہ اموات لکڑی اور کوئلے کے چولہوں سے اٹھنے والے دھوئیں کی وجہ سےہوئیں۔تحقیق کے نتائج میں کہا گیا ہے کہ مکانات کے اندر کھانا پکانے کے عمل کے دوران اٹھنے والے دھویں سے خواتین اور بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اگر صرف کھانا پکانے کے لیے محفوظ چولہے ہی فراہم کر دئیے جائیں تو دنیا میں لاکھوں افراد کی جانیں بچ سکتی ہیں"۔
آلودگی سے 70 لاکھ ہلاکتیں
"دنیا میں 2012 میں 43 لاکھ اموات گھروں کے اندر کی آلودگی خصوصاً ایشیا میں لکڑیاں جلا کر یا کوئلوں پر کھانا پکانے کے دوران اٹھنے والے دھویں کی وجہ سے ہوئیں جبکہ بیرونی فضا میں آلودگی کی وجہ سے مرنے والوں کی تعداد 37 لاکھ کے لگ بھگ رہی جن میں سے 90 فیصد کے قریب ترقی پذیر ممالک میں تھے۔
ڈبلیو ایچ او کا کہنا ہے کہ بیرونی فضائی آلودگی چین اور بھارت جیسے ممالک کے لیے بڑا مسئلہ ہے جہاں تیزی سے صنعت کاری ہو رہی ہے۔کنگز کالج لندن کے ماحولیاتی تحقیقاتی گروپ کے ڈائریکٹر فرینک کیلی کا کہنا ہے کہ ’ہم سب کو سانس لینا ہوتا ہے اس لیے ہم اس آلودگی سے بچ نہیں سکتے،اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم ماسک پہن کر یہ پیغام دیتے ہیں کہ ہم آلودہ فضا میں سانس لینے کے لیے تیار ہیں جبکہ ہمیں آلودگی ختم کرنے کے لیے اپنے طرزِ زندگی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق فضائی آلودگی کی وجہ سے سانس کے ساتھ ہمارے پھیپھڑوں میں ایسے ننھے ننھے ذرات چلے جاتے ہیں جو بیماری کا باعث بنتے ہیں۔ سائنسدانوں کے خیال میں فضائی آلودگی دل کی سوجن کی وجہ بھی بنتی ہے جس کی وجہ سے دل کا دورہ پڑنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں مردوں کے مقابلے میں خواتین کے فضائی آلودگی سے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ آلودگی پر قابو پانے کے لیے اس سلسلے میں مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ اس کے مہلک ترین اجزا کی نشاندہی کی جائے۔
امپیریئل کالج لندن کے ماجد عزتی کا کہنا ہے کہ ’ہم نہیں جانتے کہ صحارا کے صحرا کی گرد اتنی ہی خطرناک ہے جتنا کہ ایندھن یا کوئلے کا دھواں۔
------------------------------
1 - رپورٹ ۲۵/مارچ ۲۰۱۴؁ء