کے سامنے یہ استقلال فرادیٰ فرادیٰ والے محتاج نظر آئیں ؛ سو اسی کا نام ’’حکومت‘‘ ہے؛ بلکہ وجہ تکثرِ افراد کی غور سے کی جائے، تو وہ عروض ہے؛ کیوں کہ اگر کلی کو معروضات کے ساتھ عروض نہ ہو، تو یہ تعدادِ افراد ہر گز ظاہر نہ ہو، اور اس صورت میں مناسب یوں ہے کہ موصوف بالذات معروض پر بشرطیکہ قابلیتِ حکومت ومحکومیت رکھتے ہوں حاکم ہوتا، کہ متبوعیتِ باطنی در صورتِ متبوعیتِ ظاہری من جملہ وضع الشئی فی محلہ سمجھی جائے۔
پھر فوقیت وتحتیت باوجود اتحادِ نوعی بحکمِ عدل وحکمت اس بات کو مقتضی ہے کہ جیسے فرد تنزلِ نوعی اور نوع تنزلِ جنسی ہوتا ہے۔ اسی طرح ارواحِ ملائکۂ سافل، تنزلِ ارواحِ ملائکۂ عالی ہوں ، تو بہت مناسب ہے، تاکہ یہ تکثر اور فوقیت وتحتیت دونوں صحیح ہوں ؛ اس لیے کہ تنزل مرتبہ بھی مثلِ تکثر بجز عروض ممکن نہیں ۔ چناں چہ افراد کے تنزلِ نوعی ہونے سے اور انواع کے تنزل جنسی ہونے سے یہ بات ظاہر ہے کہ تنزل وتکثر متلازم ہیں اور عروض پر موقوف۔ اور عروض کا قصہ آپ سن ہی چکے ہیں کہ موصوف بالذات موصوف بالعرض پر جیسے باعتبارِ ظہور ونفوذِ احکام بمعنی آثار حاکم ہوتا ہے، ایسے ہی باعتبار حکومت بھی حاکم ہونا چاہیے۔
اس صورت میں کیفیتِ حال یہ ہوگی کہ ارواحِ سافلہ جو مرتبۂ تکثر میں پیدا ہوئی ہیں اور درجہ میں بھی نیچے ہیں ، ارواحِ صغیرہ وحقیرہ ہوں ، اور ارواحِ عالیہ جو درجہ میں عالی اور وحدت ومبدا کی جانب میں ہیں ، ارواحِ عظیمہ اور کبیرہ ہوں ۔
غرض جب مجموعہ حصص کو لیجیے، تو ایک روحِ اعظم مثل رب النوع ہو، اور جدے جدے حصے کرلیجیے، تو روحِ صغیرہ پیدا ہو۔ سو جب مرتبۂ صغیر میں روحانیت ہے؛ چناں چہ افراد کے ملاحظہ سے ظاہر ہے، تو مرتبۂ عظمت میں