باب اول :
زبان کی حفاظت اورتعلیمات ِ نبویؐ

زبان کی اصلاح اورحفاظت ایمان کی حفاظت کے مترادف ہے جو شخص اپنی زبان قابو میں نہیں رکھتا وہ اکثر پریشان رہتاہے جس کی زبان اس پر حکمران ہو ،تووہی اس کی ہلاکت کا فیصلہ کرتی ہے ،یہ زبان ہی ہے جو دوست کو دشمن بناتی ہے۔اگر زبان کی حفاظت نہ کی جائے تواس سے بے شمار اقسام کی خباثتیں نکتی ہیں ۔مثلاً جھوٹ ،غیبت،شکایت،بے صبری،بدزبانی،جھگڑا،عیب جوئی،نکتہ چینی،طعنہ زنی وغیرہ ان سب گناہوں کی الہ کار زبان بنتی ہے۔زبان کی حفاظت میں دنیا وآخرت کی نجات ہے۔ اگر انسان فضول بولنے کی عادت ترک کردے اورحتی الامکان خاموشی کا راستہ اختیار کرلے تودنیا میں فتنوں سے اورآخرت میں گناہوں سے نجات ہوگی۔ زبان کی حفاظت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ کے چند ارشاد گرامیہ پیش خدمت ہیں ۔
(۱)… حضرت عبداللہ بن سفیان اپنے والد رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں کہ :
قُلْتُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ أَخْبِرْنِیْ عَنِ اْلإِسْلَامِ بِأَمْرٍ لَاأَسٓأَلُ عَنْہٗ أَحَدًابَعْدَکَ قَالَ: قُلْ اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ قُلْتُ فَمَا أَتَّقِیْ فَأَوَّمَأَ بِیَدِہٖ إِلٰی لِسَانِہٖ
میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات ارشادفرمائیں کہ آپ کے بعد مجھے اس بارے میں کسی اورسے سوال نہ کرناپڑے۔ارشادفرمایا اٰمَنْتُ بِاللّٰہ کہو اورپھر اس پرڈٹ جائو۔میں نے عرض کیا میں کس چیز سے پرہیز کروں؟ توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے زبان کی طرف اشارہ فرمایا ۔