غسلِ جنابت کے احکام
غسل کب فرض ہوتا ہے؟
بنیادی طور پر تین وجوہات ایسی ہیں کہ جن کی وجہ سے غسل فرض ہوجاتا ہے:
1: عورت پر حیض سے پاک ہونے کے بعد غسل فرض ہوجاتا ہے۔
2: عورت پر نفاس سے پاک ہونے کے بعد غسل فرض ہوجاتا ہے۔
3: شہوت سے منی نکل آنے کے بعد مرد اور عورت پر غسل فرض ہوجاتا ہے۔(رد المحتار،فتاویٰ عالمگیری)

شہوت سے منی نکلنے کی صورتیں:
شہوت سے منی نکلنے کی متعدد صورتیں ہیں اور ان سب صورتوں میں غسل فرض ہوجاتا ہے:
1: سوتے میں کسی کو احتلام ہوجائے چاہے مرد ہو یا عورت۔
(صحیح مسلم حدیث: 737، سنن ابی داود حدیث:237،رد المحتار)
2: صحبت یعنی ہمبستری کرتے وقت منی نکل آئے۔
3: اگر میاں بیوی نے صحبت کی اور باقاعدہ دخول بھی ہوگیا تو اس سے بھی دونوں پر غسل فرض ہوجاتا ہے اگرچہ انزال نہیں ہوا ہو۔
(صحیح البخاری حدیث:291، صحیح مسلم حدیث: 809-813، سنن ابی داود حدیث:215،رد المحتار)
مسئلہ: اگر کسی شخص نے کوئی کپڑا وغیرہ لپیٹ کر جماع کیا لیکن انزال نہیں ہوا تو ایسی صورت میں بھی احتیاطًا میاں بیوی دونوں پر غسل واجب ہے۔(رد المحتار)
مسئلہ: اگر میاں بیوی شہوت کے ساتھ شرمگاہ اس طرح مِلالیں کہ درمیان میں کوئی کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو لیکن دخول بھی نہ ہوا ہو اور انزال بھی نہ ہوا ہو تو اس سے غسل فرض نہیں ہوتا ، البتہ اس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے اگرچہ کچھ بھی نہ نکلے۔(رد المحتار)
4: شوہر کا بیوی کے ساتھ پچھلی شرمگاہ میں جماع کرنا حرام ہے لیکن اس سے میاں بیوی دونوں پر غسل فرض ہوجاتا ہے، چاہے منی نکلے یا نہ نکلے۔(رد المحتار)