قربانی کے جانور میں نفلی قربانی کی نیت کرنے کا حکم :
قربانی کے بڑے جانور میں بعض افراد نفلی قربانی کی نیت سے شریک ہوں اور بعض واجب قربانی کی نیت سے تو یہ بھی جائز ہے۔
(فتاوی عثمانی)

قربانی کا جانور خریدنے کے بعد کسی کو شریک کرنے کا حکم :
کسی صاحبِ نصاب شخص نے اپنے لیے قربانی کا جانور خریدا ، پھر اس میں کسی اور کو شریک کرنے کا ارادہ ہوا تو یہ جائز تو ہے البتہ بہتر نہیں، بلکہ بہتر یہی ہے کہ پہلے سے شریک کرنے کی نیت ہونی چاہیے، لیکن اگر غیر صاحبِ نصاب شخص نے قربانی کی نیت سے جانور خریدا اور خریدتے وقت کسی کو شریک کرنے کی نیت نہیں تھی تو اب اس کے لیے کسی اور کو شریک کرنا جائز نہیں۔
(فتاوی عالمگیری، فتاوی بزازیہ، مجمع الانہر، فتاوی محمودیہ، ذوالحجہ اور قربانی کے فضائل واحکام)
جانورخریدنے کے احکام وآداب
قربانی کے لیے نیت کی درستی کی اہمیت:
قربانی کا جانور خریدنے کے لیے جانے سے پہلے اپنی نیت درست کرلینی چاہیے کہ یہ عظیم عبادت محض اللہ تعالی کی رضا کی خاطر انجام دی جارہی ہے۔ اس میں ہر قسم کی ریاکاری اور نام ونمود سے اجتناب کرنا چاہیے۔ مہنگا جانور لانے سے بعض لوگوں کا مقصد ریاکاری بھی ہوا کرتا ہے، جس کی وجہ سے یہ عبادت گناہ کا سبب بن جاتی ہے، اور ظاہر ہے کہ ایسی نام ونمود والی عبادت اللہ کی بارگاہ میں کہاں قبول ہوتی ہے!!

قربانی کرتے ہوئے دل کی رضامندی:
قربانی کی یہ عبادت بوجھ سمجھ کر بے دلی کے ساتھ ادا کرنے کی بجائے خوشی خوشی ادا کرنی چاہیے۔

قربانی کا جانور خریدنے کے لیے حلال مال کی اہمیت:
قربانی کا جانور حلال مال سے خریدنا چاہیے، کیوں کہ حرام مال کی قربانی جائز بھی نہیں اور اللہ تعالی کے ہاں کسی صورت قبول بھی نہیں۔