تمہیں دنیا وآخرت میں خیر وبھلائی پانے کی جڑ اور اصل الأصول نہ بتادوں ؟ میں نے عرض کیا: ضرورفرمائیں ! آپ نے ارشاد فرمایا: تم ذاکرین (اللہ کے ذکر کرنے والے ) کی مجلس کو لازم پکڑلو۔ جب بھی تم تنہائی میں رہو تم سے جہاں تک ہو سکے خوب اللہ تعالیٰ کا ذکر کرو۔ اللہ ہی کے لیے محبت کرو اور اللہ تعالیٰ ہی کے لیے بغض وعداوت رکھو۔ اے ابو رزین ! کیا تمہیں معلوم ہے کہ ایک شخص اپنے گھر سے اپنے دینی بھائی کی زیارت وملاقات کے لیے نکلتاہے تواس کے ساتھ ۷۰؍ستر ہزار فرشتے اس کے لیے دعائِ رحمت کرتے ہوئے نکلتے ہیں اور یوں کہتے ہیں ’’ربنا إنہ وصل فیک فصلہ‘‘ اے ہمارے پروردگار! اس شخص نے آپ کے لیے تعلق ومحبت کی، آپ بھی اس سے تعلق ومحبت رکھئے ‘‘ لہٰذا اگر تم اپنے جسم کو اس عملِ محبوب میں استعمال کرسکو تو ضرور کرو۔(۱)
حضرت عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :’’ أن النبيﷺ قال لرجل من أہل الصفۃ یکنّی أبا رزین‘‘ کہ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے اصحابِ صفہ کے ایک شخص - جن کی کنیت ابورزین ہے - فرمایا: اے ابورزین ! جب تم خلوت وتنہائی میں رہو تو تم اپنی زبان پہ اللہ تعالیٰ کا ورد رکھو۔ جب تک اللہ تعالیٰ کے ذکر میں لگے رہوگے برابر نمازہی میں شمار کئے جاؤ گے ۔ اگر تم لوگوں کے سامنے ذکر کروگے تو لوگوں کے سامنے نفل نمازپڑھنے کا ثواب دیاجائے گا اور اگر تم خلوت وتنہائی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کروگے تو خلوت وتنہائی میں نماز پڑھنے کا ثواب دیاجائے گا۔ اے ابورزین ! جب لوگ اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے لیے نکلیں اور تم کسی مجبوری کی بناپر ساتھ نہ جاسکو، لیکن جہاد کے اجر وثواب کی تمنا رکھتے ہو تو تم مسجد کو لازم پکڑلو اور بغیر کسی اجرت وتنخواہ کے مؤذنی کرو، ہرنماز کے لیے اللہ کے بندوں کو نماز کے لیے بلاؤ۔(۱)
علامہ ابنِ حجر عسقلانی نے اس روایت کی سند پر کلام کرتے ہوئے کہا’’سندہ ضعیف ووقع ذکرہ في حدیث آخر‘‘کہ اس روایت کی سند ضعیف وکمزورہے ؛ البتہ حضرت ابورزین کا تذکرہ دوسری حدیث میں ملتاہے ، جسے حافظ عقیلی نے ’’الضعفاء‘‘ میں مجہول راوی ’’محمد بن اشعث‘‘کے ترجمہ میں اس طریق سے ذکر کیا ہے ۔’’ عن ابی سلمۃعن أبی ہریرۃ قال قال أبو رزین‘‘کہ حضرت ابوسلمہ حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ سے نقل کرتے ہیں اور حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابورزین نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول: قبرستان میں مردوں کے پاس سے میرا گذر
------------------------------
(۱) حلیۃ الأولیاء: ۱/۳۶۶، الإصابۃ : ۴/۷۰۔ (۲) الإصابۃ : ۴/۷۰۔