حرف آغاز
بدل جائے گا معیارِ شرافت چشمِ دنیا میں

محمد سلمان بجنوری
۲۸؍ستمبر ۲۰۱۸ء جمعہ کے اخبارات ایک افسوس ناک اور عجیب وغریب خبر لے کر آئے کہ ہندوستان کی عدالت عظمیٰ (سپریم کورٹ) نے ۲۷؍ستمبر بروز جمعرات اپنے ایک فیصلے کے ذریعہ مرد وعورت کے غیرازدواجی تعلقات کو قانونی جواز دے دیا اور ایسے تعلقات کو جرم قرار دینے والے ایک سوستاون سالہ قدیم قانون کو منسوخ کردیا۔ عدالت نے اس سلسلے میں تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۹۷ کو غیرآئینی قرار دے دیا جس کی روسے غیرازدواجی تعلقات جرم قرار پاتے تھے۔ یہ فیصلہ جو اٹلی میں مقیم کیرالہ کے باشندہ جوزف شائن کی درخواست پر سنایاگیا ہے، سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ کا متفقہ فیصلہ ہے جس میں چیف جسٹس کے علاوہ ایک خاتون جج بھی شامل ہے۔
اس فیصلے کے ذریعہ جس دفعہ ۴۹۷ کو کالعدم کیاگیا ہے، اس کی رُوسے اب تک یہ قانون تھا کہ اگر کوئی مرد کسی شادی شدہ عورت سے اس کے شوہر کی رضا کے بغیر تعلقات قائم کرے تو اسے پانچ سال قید یا جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جاسکتی ہے، عورت پر اُس دفعہ کی رُوسے بھی کوئی جرم نہیں بنتا تھا۔ اب عدالت میں بحث اس بات پر تھی کہ کیا شادی کے بعد عورت شوہر کی ملکیت یا جاگیر بن جاتی ہے اور اگرشادی شدہ عورت سے زنا جرم ہے تو سزا صرف مرد ہی کو کیوں ؟ عرضی میں کہا گیا تھا کہ دفعہ ۴۹۷ مردوں کے غلبہ والے سماج پر مبنی قانون ہے اس میں خاتون کے ساتھ بھید بھائو ہے، اس قانون کے تحت عورت کو شوہر کی ملکیت سمجھا جاتا ہے؛ کیوں کہ اگر خاتون کے شوہر کی اجازت مل جاتی ہے تو ایسے تعلقات کو جرم نہیں مانا جاتا ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ عورت کو مرد کی ملکیت نہیں مانا جاسکتا اورآج کے دور میں اس طرح کے فرسودہ قانون کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
حالانکہ عدالت نے یہ تسلیم کیا کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ خاتون کے درمیان غیرازدواجی تعلقات کو طلاق کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔ یعنی اگر شوہر کسی دوسری عورت سے تعلق قائم کرے تو اس کی بیوی اس سے طلاق لے سکتی ہے، اسی طرح بیوی ایسا کرے تو شوہر اس کو وجہ طلاق بناسکتا ہے؛ لیکن اس قسم کے تعلقات کو جرم نہیں مانا جائے گا، خواتین اور مرد دونوں میں سے کوئی بھی اگر دوسرے سے غلاموں کی طرح برتائو کرتا ہے تو یہ غلط ہے، بنچ میں شامل ایک جج نے کہا کہ دفعہ ۴۹۷ عورت کو اس کی خواہش اور پسند کے مطابق جنسی تعلقات قائم کرنے سے روکتی ہے اس لیے یہ غیرآئینی ہے، چیف جسٹس نے کہا کہ شوہر اپنی بیوی کو کچھ کرنے یا کچھ نہیں کرنے کی ہدایت نہیں دے سکتا۔ بنچ میں شامل تمام ججوں کا متفقہ فیصلہ تھا کہ دفعہ ۴۹۷ دستور ہند کے آرٹیکل ۱۴ اور ۲۱ کے منافی ہے جو زندگی، آزادی اور مساوات کے حق کی ضمانت دیتے ہیں ۔
اس فیصلے کی قدرے وضاحت پیش کرنے کا مقصد یہ ہے کہ قارئین اس میں کارفرما ذہنیت اور سوچ کو سمجھ جائیں ۔ خیال رہے کہ عدالت عالیہ، اسی ماہ ستمبر کی ۶؍تاریخ کو ایک اور اسی طرح کا غیرفطری فیصلہ صادر کرچکی ہے کہ قانون کی دفعہ ۳۷۷ غیر آئینی ہے جس کی رو سے دو مردوں یا دو عورتوں کا آپسی تعلق جرم قرار دیا جاتا تھا۔ عدالت نے فیصلہ دیا کہ اب ایسا تعلق جرم نہیں مانا جائے گا۔ گویا ایک ہی مہینہ میں دو ایسے فیصلے صادر کیے گئے ہیں جن سے فطری اخلاقیات کی گردن پر چھری چلا دی گئی ہے اوریہ کام، مساوات، آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظ کے نام سے کیاگیا ہے۔ع
ناطقہ سربہ گریباں ہے اسے کیا کہیے
ان دونوں فیصلوں کے بارے میں کن الفاظ میں اظہار خیال کیا جائے سمجھ میں نہیں آتا، دین وشریعت یا اسلامی نقطئہ نظر سے قطع نظر محض انسانی، اخلاقی اور فطری پہلوئوں سے دیکھا جائے تب بھی یہ فیصلے ہر صحیح الفطرت آدمی کے لیے تکلیف دہ ہیں اور ایک عام ہندوستانی جومشرقی تہذیب اور مشرقی اقدار کو عزیز رکھتا ہے، اسی پہلو سے ان فیصلوں سے متفق نہیں ہوسکتا، لیکن دوسری طرف مغرب کی مادرپدر آزاد زندگی کو اپنا آئیڈیل ماننے والا طبقہ ہے جو ان فیصلوں کا خیرمقدم کررہاہے ویسے یہ طبقہ تو بہت مدت سے اس قسم کا ماحول پیدا کرنے کے لیے کوشاں تھا؛ لیکن تشویش ناک بات یہ ہے کہ اب عدالت عظمی سے بھی اسی ذہن ومزاج کی نمائندگی ہورہی ہے۔ع
پستی کا کوئی حد سے گذرنا دیکھے
یہ لوگ اس بات پر غور نہیں کررہے ہیں کہ مغرب کے جس اباحیت پسند، حیاء سوز طرز معاشرت کو یہ اس مشرقی مزاج کے ملک میں نافذ کرنا چاہتے ہیں اس نے مغرب کے معاشرے کو ایسی انارکی اور انتشار سے دوچار کیاہے کہ وہاں خاندانی نظام بری طرح ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگیا ہے اور وہاں نام ونسب سے محروم بچوں کی تعداد دنیا کے کسی بھی معاشرے سے کئی گنا زیادہ ہے اور اسی طرح طلاق کی شرح میں بھی وہ معاشرہ سب سے آگے ہے۔
آخر کیا وجہ ہے کہ خاندانی نظام کو انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کی راہ پر لگانے کے لیے باقاعدہ کوششیں کی جارہی ہیں ۔ حیرت ہے کہ فاضل ججوں کو کسی عورت یا مرد کی بے لگام نفسانی خواہشات کی رعایت تو بنیادی حقوق کا حصہ نظر آرہی ہے؛ لیکن نکاح کے مقدس رشتہ کے حامل مردوعورت کی ایک دوسرے کو اپنا پابند رکھنے کی فطری خواہش قابل لحاظ دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ ان کو یہ بھی فکر نہیں ہے کہ اُن کی دی ہوئی آزادی کے نتیجہ میں طلاق کی شرح میں کتنا اضافہ ہوگا، کتنے ہی ایسے بچے وجود میں آئیں گے جن کو اپنانے کے لیے عورت کا قانونی شوہر تیار نہیں ہوگا۔ اُن کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
اسی طرح غیرفطری جنسی تعلقات، اس معاشرے کو گندگی کی کس طرح پر لے جائیں گے؟ ان کے نتیجے میں جو موذی امراض پھیلیں گے اُن کا ذمہ دار کون ہوگا؟ معاشرے میں بے حیائی پر روک ٹوک کرنا تو ممکن نہیں رہے گا پھر لوگوں کی عزتیں کس طرح محفوظ رہیں گی یا عزت محفوظ رکھنے کا کیا تصور ہوگا؟ جس معاشرے میں اب تک کے قوانین کی موجودگی میں بھی جنسی استحصال کے واقعات رونما ہوتے رہتے تھے، اب ان کی تعداد کہاں پہنچے گی؟
یہ سوال بھی بجا طورپر کیا جاسکتا ہے کہ جب عدالت عظمیٰ کی نظر میں ایک مرد، کسی تحدید کے بغیر چاہے جتنی عورتوں سے تعلق رکھ سکتا ہے یا ایک عورت چاہے جتنے مردوں سے تعلق قائم کرسکتی ہے تو اگر کوئی شخص جائزنکاح کے ذریعہ صرف چار عورتوں سے تعلق رکھے اور ان کی پوری ذمہ داری اٹھائے تو اس میں کیا قباحت ہے؟ جب کہ آپ کے عطا کردہ آزاد معاشرے میں تو ان بدکاروں پر ایک دوسرے کی ذمہ داری بھی نہیں ڈالی جاسکتی؛ بلکہ عورت کی ذمہ داری وہی غریب اٹھانے پر مجبور رہے گا جس کا نام قانونی شوہر ہوگا اورجس کی مرضی کے بغیر عورت اپنے بے شمار دوستوں سے تعلقات قائم کرکے اس کے سینے پر مونگ دلتی رہے گی۔ اسی طرح کتنی ہی شریف عورتیں ایسے شوہروں کے ماتحت رہنے پر مجبور ہوں گی جو بدکاری کے عادی ہوں گے اور آپ کی اجازت کے باوجود طلاق کو وہ عورتیں ناپسند کرتی ہوں گی، اس طرح ان کی زندگی اجیرن بن کر رہ جائے گی۔ پھر اگر شوہر کی بے راہ روی کی بناء پر عورت طلاق لے لے یا عورت کی بے راہ روی کی بناء پر شوہر اُسے طلاق دے دے جیساکہ آپ گنجائش دے رہے ہیں تو ان طلاق شدہ عورتوں کا کیا انتظام ہوگا؟
حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں فیصلوں کی بنیاد مغرب کی اندھی تقلید کے سوا کچھ نہیں ، جب کہ یہ وہ خارزار وادی ہے جس میں سرپٹ دوڑ کر مغرب اپنے زخموں کا شمار کرنے کے لائق بھی نہیں رہا ہے، ہم اس کی نقالی کرکے اپنی تہذیب وثقافت اور خوبصورت روایات میں آگ لگا رہے ہیں ۔
اس جگہ اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ان دونوں فیصلوں کی جس شدت اور قوت سے مخالفت ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہوئی، حالانکہ یہ کسی خاص مذہب یاقوم کا مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ اس ملک میں بسنے والی تمام اقوام کا مسئلہ ہے، اس لیے ضرورت ہے کہ تمام مسلم وغیرمسلم تنظیمیں اپنی بھرپور طاقت وصلاحیت استعمال کرکے ان فیصلوں کو بدلوانے کی کوشش کریں ورنہ وہی ہوگا جو شاعر مشرق نے بہت پہلے کہہ دیا تھا۔ ؎
تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخ نازک پر آشیانہ بنے گا ناپائیدار ہوگا
٭ ٭ ٭