صدائے نخیل
ماہنامہ ا لنخیل کا آغازِ اشاعت
مدیر کے قلم سے
مجلات اور رسائل نکالنے کا شوق ایک عرصہ سے رہا ، وفاق المدارس العربیہ کا ترجمان رسالہ پہلے سہ ماہی اور بعد میں ماہانہ نکالا گیا، شروع سے تقریباًسولہ سال تک اس کی ادارت میرے پاس رہی، اس پورے عرصہ میں اس کا کوئی مضمون کبھی ادارتی انتشار کا باعث نہیں بنا، جب وفاق المدارس کی تاریخ کا کام بابائےمدارس مولانا سلیم اللہ خان صاحبؒ نے میرے حوالے کیا تو اس کی ادارت سے استعفیٰ دیا … کوئی پندرہ سال قبل خواتین کے لیے ماہنامہ حیا کے نام سے ایک ڈائجسٹ نما رسالہ نکالا، اس میں اسلامی مضامین،کہانیاں،ناول اور مستقل سلسلے شائع ہوتے ہیںاور پاکستان میں خواتین کے لیے اس سے بہتر ماہنامہ اب تک نہیںآیا، دوسوچوبیس صفحات پر مشتمل یہ ماہنامہ گذشتہ پندرہ سال سے الحمد للہ مسلسل شائع ہورہا ہے…
چھ سات سال قبل ’’النخیل ‘‘ کے نام سے تحقیقی ،ادبی اور علمی مضامین کی اشاعت کے لیے ایک ماہنامہ کا ڈکلریشن لیا تھا،لیکن وقت گذرتا رہا ،اس کا آغاز نہیں ہوسکا،ہر کام کا ایک وقت مقرر ہے، آج وہ وقت آپہنچا اور اس کا پہلا شمارہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔
تعلیم کی طرح ہمارا اردو ادب کا اثاثہ بھی قدیم و جدید میں تقسیم ہوچکا ہے،عصری تعلیم گاہوں اور میڈیا سے وابستہ اہل قلم کی ایک الگ دنیا ہے، اسلامی درس گاہوں سے وابستہ اہل قلم سےان کی پہچان تک نہیں، اِدھر بھی یہی حالت ہے، دونوں کے درمیان یہ خلیج بہت بڑھ گئی ہے،حد ہے اور بے حد ہے کہ جناب سلیم اختر صاحب مرحوم اپنے سالناموں میں اردو ادب کی مطبوعات کا جائزہ لیتے رہے، کسی عالم کی تحریر کو کبھی اس میں جگہ نہیں دی،اردو سفر ناموں میں حضرت مولانامفتی تقی عثمانی صاحب کے ’’جہاں دیدہ ‘‘ کو کون نظر انداز کرسکتا ہے، ان کی نظر سے یہ سفر نامہ بھی اوجھل رہا …اس خلیج کو کم کرنے کی ضرورت ہے، النخیل اسی راہ پر