ہماری آنکھیں اور کان
اللہ کی بہت ساری نشانیوں کی طرح ہم اپنی آنکھوں اور کانوں کے عطیہ پر بھی بہت کم غوروفکر اور شکر کرتے ہیں۔ سورۃ الملک: ۲۳

(ترجمہ) کہہ دیجئے کہ وہی (اللہ) جس نے تمہیں پیدا کیا اور تمہارے کان آنکھیں اور دل بنائے تم بہت ہی کم شکر گزاری کرتے ہو۔
نوٹ فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں۱۴ سو سال پہلے بتا دیا کہ ماں کے پیٹ میں نوزائیدہ بچے (Embryo)کی تخلیق کے دوران پہلے کان بنتے ہیں پھر آنکھیں۔ سائنس دانوں نے حال ہی میں اس کا ایک بڑی دوربین سے مشاہدہ کیا ہے اور بعض نامور سائنس دانوں نے اس آیت کریمہ کی وجہ سے اسلام قبول کرلیا۔
ہماری یہ بنیادی قوتیں اللہ نے پیدا کی ہیں۔ کیا کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ اگر یہ صلاحیتیں خدانخواستہ ہم سے چھن جائیں تو کیا ہوگا؟ کیا ہم اپنی آنکھوں اور کانوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں؟ کیا ان کے صحیح اور غلط استعمال کی کوئی جواب دہی ہوگی؟ اس طرح کے انتہائی سادہ مگر بہت اہم سوالات ذہن میں پیدا ہوتے ہیں؟
سب سے پہلے تو ہمیں یہ جان لینا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو سات مرحلوں میں پیدا کیا ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ المؤمنین: ۱۲۔۱۴

(ترجمہ) یقینا ہم نے انسان کو مٹی کے جوہر سے پیدا کیا۔ پھر اسے نطفہ بنا کر محفوظ جگہ