حرف آغاز
فتنوں کے خلاف جہد مسلسل کی ضرورت
محمد سلمان بجنوری
یہ بات کسی بھی باشعور شخص کے لیے محتاج دلیل نہیں ہے کہ اس امت کے معاملات میں علماء امت کا کردار مرکزی اور بنیادی اہمیت کا حامل ہے، امت میں علماء کی سرگرمیوں اور اُن کے ساتھ مسلمانوں کے رابطے کی کیفیت کا، امت کے خیر وشر میں بڑا دخل ہے۔ اگر علماء اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں فعال اور مستعد ہیں اور مسلمانوں کا اُن کے ساتھ رابطہ استوار ہے تو امت میں پیداہونے والے فتنوں کا توڑ ہوتا رہتا ہے اور اگر یہ دونوں پہلو کمزور ہیں تو امت آسانی سے فتنوں کا شکار ہوتی رہتی ہے؛ اس لیے ضروری ہے کہ علماء اپنی ذمہ داریوں کے تئیں ہروقت بیدار اورمستعد رہیں۔
اس وقت اس موضوع پر کوئی تفصیلی گفتگو پیش نظر نہیں ہے کہ یہ صفحات ایسے کسی موضوع پر تفصیل کی گنجائش بھی نہیں رکھتے اور یہ موضوع تو بجائے خود ایک کتاب کا موضوع ہے؛ البتہ اگر وقتاً فوقتاً اس قسم کی کچھ چیزیں سامنے آتی رہیں تو بھی ایک ضرورت پوری ہوتی رہے، اس لیے سردست دو موضوعات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے۔
(۱) ایمان کے لیے خطرہ بننے والے فتنوں کا مسئلہ: اس سے مراد خاص طور پر قادیانیت اوراس سے قریب تر، شکیلیت کافتنہ ہے۔ قادیانیت کا فتنہ تو سوبرس سے زیادہ قدیم فتنہ ہے اوراس کے پس منظر میں علماء اسلام اور مسلمانوں کی تنظیموں اور اداروں کی جدوجہد سے تاریخ کا ایک باب وجود میں آیا ہے۔ اسی طرح اس کے علمی تعاقب کے سلسلے میں ایک پورا کتب خانہ مرتب ہوگیا ہے، پھر بھی یہ فتنہ نئے نئے بال وپر نکالتا رہتا ہے اور ہر سطح پر اس کے تعاقب کے لیے سرگرم رہنے کی ضرورت آج بھی باقی ہے۔
لیکن اس سے ملتا جلتا شکیلیت کا فتنہ اس وقت بہت تیزی سے عصری تعلیم یافتہ طبقے اور دین سے مانوس نوجوانوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا ہے۔ اس فتنہ کی عمر غالباً دو دہائی سے کم ہی ہے اوراس کا بانی ایک نیم تعلیم یافتہ شخص ہے جو ابتداء میں دینی کاموں سے مربوط رہاہے، پھر نہ جانے کدھر سے گمراہی نے اسے گھیرا اوراس کے دماغ میں مہدی ہونے کا دعویٰ کرنے کا سودا سماگیا اور آہستہ آہستہ اس کا ایک حلقہ بنتا چلا گیا۔ آج وہ فتنہ مسلسل بڑھ رہا ہے اورمسلم نوجوان اس کا شکار ہورہے ہیں اور یہ بات بتانے کی تو ضرورت ہی نہیں کہ ان فتنوں کا شکار ہونے کا مطلب ایمان سے محروم ہونا ہے، اس لیے ان کی سنگینی بیان سے باہر ہے اور اسی لیے ان سے مسلمانوں کو بچانے کی کوشش علماء کے ان فرائض میں شامل ہے جو اولیت کے مستحق ہیں۔
(۲) دوسرا مسئلہ جو اس وقت توجہ طلب ہے، حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم سے متعلق ہے، حضرات صحابہؓ کے بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف روز اوّل سے طے شدہ ہے کہ صحابہؓ حق کا معیار ہیں اور تنقید سے بالاتر ہیں، ان کے بارے میں کسی جرح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دوسری طرف شیعہ مذہب ہے جس کی بنیاد ہی بغض صحابہؓ پر ہے؛ لیکن حق اور باطل کے ان واضح نظریات کے درمیان وقتاً فوقتاً امت میں ایسے افراد بھی سامنے آتے رہتے ہیں جو اہل سنت میں شمار ہونے کے باوجود اپنی کم علمی یا بے احتیاطی کی بنا پر حضرات صحابہؓ کے بارے میں حدود سے تجاوز کربیٹھتے ہیں اوراُن کو ناحق نشانۂ تنقید بنانا شروع کردیتے ہیں، یا ان کے بارے میں ایسا طرز کلام اختیار کرجاتے ہیںجو صحابۂ کرام کے شایانِ شان نہیں ہوتا۔ بدقسمتی سے آج کل بھی ایسی کچھ باتیں سامنے آرہی ہیں۔ اس سے ہمارا اشارہ صرف اُن بعض علماء ہی کی طرف نہیں ہے جن کے غلط طرز عمل پر ان صفحات میں پہلے بھی عرض کیاجاچکا ہے؛ بلکہ ان کے علاوہ عام دین پسند کم علم بیان کرنے والوں سے بھی اس سلسلے میں مسلسل غلطیاں ہورہی ہیں جن سے اندیشہ ہے کہ عام مسلمانوں کے دلوں سے صحابۂ کرامؓ کا احترام کم ہوسکتا ہے، اس لیے ان دونوں موضوعات پر کام کی ضرورت ہے اوراس پر زیادہ ذمہ داری کے ساتھ توجہ مطلوب ہے۔ خصوصاً عام مسلمانوں میں ان موضوعات پر بصیرت اور شعور پیدا کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ حضرات علماء کرام سے گزارش ہے کہ ان موضوعات کو اپنی تحریر و تقریر کا موضوع بنائیں۔ ائمہ مساجد اپنی عام گفتگو میں بھی اور جمعہ کے خطبات میں بھی ان موضوعات سے مسلمانوں کو روشناس کرائیں اور ان کا ذوق ومزاج پورے طور پر اپنے اسلاف واکابر کے مذاق و مزاج کے انداز پر ڈھالنے کی کوشش کریں تاکہ وہ آسانی سے کسی دشمنِ ایمان کے دام فریب میں نہ آئیں؛ بلکہ مقام نبوت اور مقام صحابہ کے دشمنوں کو پہچان کر ان سے پوری طرح محفوظ رہ سکیں۔
جو بادہ کش تھے پرانے وہ اٹھتے جاتے ہیں
علامہ اقبال کا یہ مصرعہ کسی ایک شخصیت کی وفات پر بھی عنوان بنالیا جاتا ہے اور ’’اٹھتے جاتے ہیں‘‘ کے لفظ سے جو تسلسل کا مضمون سمجھ میں آتا ہے اس کا تعلق سابق میں وفات پانے والی شخصیات سے ہوتا ہے؛ لیکن کبھی ایسا بھی ہوجاتا ہے کہ کئی شخصیات کا اس دنیا سے جانا، اس طرح یکے بعد دیگرے، کسی طویل وقفے کے بغیر ہوتا ہے کہ اس مصرعہ کے مضمون کا تسلسل اپنے حقیقی معنی میں صادق آجاتا ہے، ایسا ہی کچھ گزشتہ چندہفتوں کے دوران ہوا کہ ہمارے اداروں اور دینی حلقوں سے تعلق رکھنے والی کئی شخصیات کی وفات کے حادثے جلدی جلدی پیش آئے، ذیل کی سطور میں ان میں سے بعض حضرات کا ذکر خیر،اداء حق کے طور پر کیاجارہاہے۔
مولانا حسیب صدیقی دیوبند: ۹؍جنوری ۲۰۱۹ء/۲؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۰ھ بروز بدھمسلم فنڈ دیوبندکے منیجر، آل انڈیا اقتصادی کونسل کے چیئرمین اور جمعیۃ علماء ہند کے خازن جناب مولانا حسیب صدیقی صاحب انتقال فرماگئے إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ اُن کے انتقال سے شہر دیوبند میں ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا، وہ دیوبند کی رونق اور مسلمانان دیوبند کی آبرو تھے، ان کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد مدنی قدس سرہٗ سے شرف تلمذ حاصل تھا اور فدائے ملت حضرت مولانا سیداسعد مدنی رحمۃ اللہ علیہ کے وہ معتمد خاص تھے، عرف عام میں وہ مسلم فنڈ دیوبند کے منیجر کی حیثیت سے متعارف تھے؛ لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ دیوبند کی تمام سیاسی وسماجی سرگرمیوں میں مرکزی کردار کے مالک تھے، ان پر مسلم غیرمسلم سب اعتماد کرتے تھے اور دیوبند شہر کاکوئی اہم معاملہ ان کے بغیر تکمیل کو نہیںپہنچتا تھا۔ انھوں نے مسلم فنڈ کو عوام کی فلاح وبہبود کا ایک جامع ادارہ بنادیا تھا۔ انھوں نے مدنی آئی ٹی آئی، مدنی آنکھ ہسپتال اور اسی قسم کے بہت سے رفاہی وفلاحی ادارے اور اسکول وغیرہ قائم کیے تھے اور وہ ان کی نگرانی وانتظام میں چل رہے تھے۔
دارالعلوم دیوبند سے بھی اُن کا تعلق قدیم تھا۔ ان کے والد جناب منشی محمدعزیز صدیقی صاحب رحمہ اللہ، نصف صدی سے زائد عرصہ تک دفتر تعلیمات کے معتمد اور روح رواں تھے جن کی بیدارمغزی، مستعدی اور فرض شناسی کے گواہ وہ تمام حضرات ہیں جنھوںنے ان کی مدتِ کار کے دوران دارالعلوم میں پڑھا، یا پڑھایا۔ خود مولانا حسیب صدیقی صاحب ایک زمانے تک دارالعلوم کے بجٹ کی ترتیب وتیاری میں تعاون کرتے رہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے معاملات میں دارالعلوم کو ان کی ذات سے تعاون، تقویت اور تائید حاصل ہوتی تھی۔
مولانا حسیب صدیقی صاحب اپنی طالب علمی کے دور سے اُس حلقہ کے رکن رکین تھے جس کے سربراہ غیرمعمولی ادبی وعلمی صلاحیتوں کی حامل شخصیت حضرت مولانا محمد عثمان کاشف الہاشمی رحمہ اللہ تھے اور جس کے اہم ترین رفقاء میں حضرت مولانا ریاست علی صاحب بجنوری نوراللہ مرقدہ، حضرت مولانا لقمان الحق فاروقی رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالحفیظ بستوی رحمہ اللہ، حضرت مولانا عبدالجلیل راغبی رحمہ اللہ وغیرہ تھے۔ اب یہ سارا قافلہ اپنے رب کے حضور پہنچ چکا ہے۔ اللہ سب کی مغفرت فرمائے،آمین!
مولانا حسیب صدیقی صاحب جمعیۃ علماء ہند کے خازن اوراس کی ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے اورنہایت پابندی سے اس کی میٹنگوں میں شریک ہوتے تھے، ذمہ داری کا احساس ان کی شخصیت کا امتیاز تھا، راقم سطور دیکھتا تھا کہ وہ جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں اپنے ضعف اور تعب کے باوجود از اوّل تا آخر شریک رہتے تھے جب کہ اس کی نشست اکثر ا وقات مسلسل پانچ گھنٹے یا اس سے زائد بھی جاری رہتی ہے۔ جب سے وہ عاملہ میں آئے شاید کبھی شرکت کا ناغہ نہیں ہوا۔ یہی حال روزمرہ کی ذمہ داریوں میں بھی تھا، مسلم فنڈ کے دفتر میں وہ وفات سے چند روز پہلے تک پانبدی سے آتے رہے۔ مجموعی اعتبار سے ان کی شخصیت نہایت مفید، کارگزاراور باوقار تھی جس کو صرف دیوبند کے مختلف طبقات ہی نہیں، علاقہ اور ملک میں بھی وقار واعتبار حاصل تھا۔ دعاء ہے کہ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور ان کے ساتھ اپنی خاص رحمت کا معاملہ فرمائے، آمین!
حضرت مولانا سید واضح رشید ندوی نوراللہ مرقدہ: اسی مہینے۹؍جمادی الاولیٰ ۱۴۴۰ھ/۱۶؍ جنوری ۲۰۱۹ء بروزبدھ دارالعلوم ندوۃ العلماء کے معتمد تعلیم، وہاں کے قدیم اور مرکزی استاذ، معروف صاحب قلم اور عربی کے مشہور ادیب حضرت مولانا سید واضح رشید ندوی بھی رحلت فرماگئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ مولانا مرحوم، حضرت مولانا سیدمحمد رابع ندوی صاحب دامت برکاتہم ناظم ندوۃ العلماء وصدر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے حقیقی چھوٹے بھائی تھے۔ اورمفکر اسلام حضرت مولانا سیدابوالحسن علی میاں ندوی نوراللہ مرقدہ کے بھانجے تھے، ان کی شخصیت بڑی دل آویز اور جامع الصفات تھی، وہ عربی واردو کے مسلمہ ادیب تھے۔ اُن کا قلم نصف صدی سے زائد عرصہ تک الرائد اور البعث الاسلامی کے صفحات پر اسلامی فکر کی ترجمانی اور مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے وقف رہا۔ اُن کی وفات پر، ان کے تلامذہ کے جو تاثرات سامنے آئے ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ حضرت مولانا واضح رشید ندوی صاحب ایک مردم ساز شخصیت کے مالک تھے جو نہایت خاموشی اور خلوص کے ساتھ اپنا کام کرتے رہے اور اللہ رب العزت نے اُن کے کاموں میں برکت بھی عطاء فرمائی، جس کی بنیاد اُن کا اخلاص اور دنیاطلبی سے دوری تھی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ اپنے نامور ماموں اور محترم بھائی کی طرح زاہدانہ طبیعت کے مالک تھے اور یہی اُن کی شخصیت کا جوہر تھا جس نے ان کو محبوبیت عطاء کی۔ اپنی تمام ترعلمی مشغولیت کے ساتھ وہ ذوق عبادت میں بھی ممتاز تھے۔ مجموعی اعتبار سے ان کی شخصیت حسنات وبرکات کا مرکز تھی، ایسی شخصیت کا اٹھ جانا اُن کے ادارہ کے لیے بھی بڑا حادثہ ہے اور پوری ملت خصوصاً طبقہ علماء ومدارس کے لیے بھی۔ دعاء ہے کہ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے اور ملت کو اُن کا نعم البدل عطاء فرمائے، آمین!
حضرت مولانا محمدیعقوب صاحب مدراس: رسالہ تیار تھا کہ اچانک خبرملی کہ دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوریٰ کے بزرگ اور اہم رکن حضرت مولانا محمدیعقوب صاحب قاسمی شیخ الحدیث مدرسہ کاشف الہدیٰ مدراس بھی رحلت فرماگئے۔ إنا للّٰہ وإنا إلیہ راجعون۔ موصوف جنوبی ہند خصوصاً تمل ناڈو میں فکردیوبند کے سب سے بڑے اور معتبر ترجمان تھے۔ بڑی ذی علم شخصیت کے مالک تھے۔ ۳؍فروری ۲۰۱۹ء بروز اتوار بعد نماز عصر مدرسہ مفتاح العلوم میل وشارم میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اللہ رب العزت مغفرت فرمائے اور اپنی خاص رحمت کا معاملہ فرمائے، آمین!
اسی دوران کئی دیگر ممتاز علماء بھی انتقال فرماگئے جن میں حضرت مولانا زبیراحمد قاسمی ناظم مدرسہ اشرف العلوم کنہواں سیتامڑھی بہار (سابق شیخ الحدیث دارالعلوم سبیل السلام حیدرآباد) اور حضرت مولانا حسیب الرحمن صاحب کشن گنج سابق شیخ الحدیث دارالعلوم حیدرآباد خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہ دونوں حضرات، حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کے ممتاز تلامذہ میں سے تھے اور تدریسی وعلمی خدمات سے بھرپور طویل عمر گزارکر دنیاسے تشریف لے گئے۔ اسی طرح چند دن قبل حضرت مولانا محمد قاسم صاحب بانی ومہتمم جامعہ مدنیہ سبل پور پٹنہ وصدر جمعیۃ علماء بہار بھی اچانک داغِ مفارقت دے گئے۔ ان کی شخصیت بھی اپنی صالحیت وللہیت اور علمی وملّی خدمات میں صوبہ بہار کی مغتنم شخصیات میں تھی۔ وہ رابطہ مدارس اسلامیہ دارالعلوم دیوبند شاخ صوبہ بہار کے صدر اور جمعیۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے ممبر بھی تھے۔
اللہ رب العزت ان تمام حضرات کو اپنی خاص رحمت میں ڈھانپ لے اور ملت اسلامیہ کو اُس کی ضرورت کے مطابق ان حضرات کا نعم البدل عطا فرمائے، آمین!
٭ ٭ ٭