سے نمٹنے کے لیے پیش کیا تھا اگر حالات اس قدر خراب ہوجائیں اوروبائی امراض اس قدر پھیل جائے تو لاک ڈوان کیا جاسکتا ہے یہ اسلام کی تعلیمات کے عین موافق ہے ۔
وبائی امراض پھیلنے کی صورت میں ہماری ذمہ داریاں
وبائی امراض یا وائرس کا پھیلنااللہ تعالی کی طرف سے آزمائش اور امتحان ہے اس سے نہ صرف لوگوں کی موتیں واقع ہورہی ہیں ؛ بلکہ دنیا بالکل سمٹ سی گئی ہے ، اسفار پر پابندی ہے، لوگ ادھر سے ادھر نہیں جاپارہے ہیں ،معیشت کا بہت بڑا نقصان ہورہا ہے ، چیزیں بہت سے علاقوں میں مہنگی ہوگئی ہیں جس سے عام لوگ تکلیف میں مبتلا ہیں ، ظاہر ہے کہ یہ سب عام لوگوں کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ہے؛ اس لیے بحیثیت مسلمان اور محمد ﷺ کے غلام اور ایک عالمی و آفاقی امت ہونے کے ہمیں آپ ﷺ نے جو ہدایات دی ہیں ان کو بروئے کار لاکر اس سے نجات پانے کی سعی و کوشش کرنی چاہیے ، آپ ﷺ کا عام معمول یہ تھا کہ جب بھی کوئی مصیت اور پریشانی آتی ، آندھی طوفان کی شکل میں ہو یا آفات و بلیات کی شکل میں آپ مسجد کی طرف جاتے اور مسجد میں حضرات صحابہ کو جمع کرتے ،نماز اور دعا کی تلقین فرماتے ،حضرات صحابہ کی زندگی میں بھی یہ چیز بہت اہمیت کے ساتھ ملتی ہے؛قال اتیت انسا فقلت یا أبا حمزۃ ،ہل کان یصیبکم مثل ہذا علی عہد رسول اللہ ﷺ قال :معاذ اللہ ان کانت الریح لتشتد فنبادر المسجد مخافۃ القیامۃ(سنن ابی داؤد حدیث نمبر :۱۱۹۶) اس لیے آج جب کہ پوری دنیا میں کرونا وائرس کی دہشت ہے مسلمانوں کو نماز او ردعا کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔
اس موقع پر جن خاص دعاؤں کا ا ہتمام کرنا چاہیے ان میں چند یہ ہیں :(۱)بِسمِ اللّہِ الذی لا یَضُرُہُ مَعَ اِسمِہِ شَئْیٌ فِی اَلْأرْضِ و