میں حضرات اہل علم کی آراء مختلف ہوئیں ہیں ۔میں یہ سمجھتاہوں کہ ایسی صورت میں تنہا ظہر کی نماز پڑھنی چاہیے ؛اس لیے کہ جو لوگ جمعہ میں شریک نہ ہو سکتے ہوں ان کے لیے حکم یہ ہے کہ تنہا ظہر پڑھ لیں جیسے کہ قیدی حضرات کو تنہا ظہر کی نماز پڑھنے کا حکم ہے موجودہ حالات میں ہماری مثال بھی قیدیوں کے ہی مماثل ہے، بعض ارباب افتاء نے ظہر کی نماز جماعت سے پڑھنے کو کہا ہے اس کی دلیل انہوں نے یہ دی ہے کہ جہاں جمعہ قائم ہو وہاں پر ظہر کی جماعت قائم کرنے کی ممانعت تقلیل جمعہ کی علت سے ہے اور وہ علت یہاں پر مفقود ہے اس لیے ظہر کی جماعت کی جاسکتی ہے ۔تاہم تینوں آراء ہیں میں کسی پربھی عمل کرلیا جائے اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے؛ اس لیے کہ ہر طرح کے دلائل ہیں اور ہر رائے کو ہندوستان کے معتبر دارلافتاء اور ارباب افتاء کا اعتماد بھی حاصل ہے۔اس لیے کہ ہر طرح کا عمل درست ہے کسی کو اعادہ کی ضرورت نہیں ہے ۔
اذنِ عام کی شرط اور اس کا مفہوم
سوال(۵) جمعہ میں اذن عام کی شرط ہے جب کہ موجو دہ حالات میں تو مسجد میں بھی اذن عام نہیں ہے عام طور پر مسجد میں تالا لگا ہوا ہے او رچند افراد نماز پڑھتے ہیں تو مسجد میں بھی جمعہ نہیں ہونی چاہیے ؟
جواب (۵)جمعہ کے لیے اذن عام کی شرط ائمہ اربعہ میں سے صرف احناف کے یہاں ہے اور احناف کے یہاں بھی ظاہر الروایت نہیں ہے اسی وجہ سے صاحب ہدایہ نے اس شرط کو ذکر نہیں کیا ہے ہاں نوادر کی روایت کے مطابق اذن عام کو شرط قرار دیا گیا ہے۔دوسری بات یہ کہ موجودہ حالات میں حکومت کی طرف سے جو پانچ چھ سے زائد لوگوں کو منع کیا جارہا ہے یہ قانونی اور حکومتی پابندی کی بنا پر ہے اور ایسی ممانعت اذن عام کے منافی نہیں ہے کیوں کہ مقصد لوگوں کو نماز جمعہ سے روکنا نہیں ہے بلکہ قانون شکنی کی صورت میں ہونے والی بڑی