انٹر نیٹ کیفے چلانا اور اس کا شرعی حکم
مولوی وحید اللہ قاسمی
جدید ذرائع ابلاغ میں سے کسی کو بھی فی نفسہ مفید یا مضر نہیں کہاجاسکتا،اچھے اور برے کا انحصار اس کے ا ستعمال پر ہے، اگر اسے اچھائی کے لیے استعمال کیا جائے تو نتیجہ اچھا ہوگا اور برائی کے لیے استعمال کیا جائے تو نتیجہ برا ہوگا، جیسے: ایک نہایت تیز چھری سے ایک ماہر ڈاکٹر زہریلے اور مہلک زخم پر نشتر لگا کر ایک شخص کو موت سے بچاسکتا ہے، تو ایک رہزن اسی چاقو سے بے گناہ کا گلا کاٹ کر موت کے گھاٹ بھی اتار سکتا ہے، ان دونوں کاموں میں اس تیز چاقو کی کوئی ذمہ داری نہیں ہے؛ بلکہ ذمہ داری استعمال کرنے والے کی ہے، یہی حال جدید آلات کا ہے، اگر ہم ان سے تخریبی کام لینا چاہیں تو لے سکتے ، جیسا کہ آج تخریب کاری اور فساد وبگاڑ کے لیے یہ استعمال بھی ہورہے ہیں اور اگر ہم تعمیری کام انجام دینا چاہیں تو وہ بھی کرسکتے ہیں ؛ اس لیے کہ یہ بے جان آلات ہیں ، ان کانہ کوئی مذہب ہے، نہ رنگ اور نہ وطن، بس ان کا صحیح استعمال ہونا چاہیے۔
جدید ذرائع ابلاغ میں سے ایک انٹرنیٹ ہے، جن کے پاس انٹرنیٹ کنکشن ہوتا ہے وہ اس سے استفادہ کرتے ہیں اور جن کے پاس نہیں ہوتا، ان کے لیے مختلف جگہوں پر ’’انٹرنیٹ کیفے‘‘ قائم ہوتے ہیں ، جن میں انٹر نیٹ کنکشن ہوتا ہے اور ضرورت مند اس کی فیس ادا کرکے فائدہ اٹھاتے ہیں ،اس کی شکل یہ ہے کہ ایک شخص مثلا: آٹھ، دس کمپیوٹر لگا کر انٹرنیٹ کنکشن لیتا ہے، لوگ وہاں پر دس یا پچاس روپے فی گھنٹہ دیکر اپنی مرضی کے مطابق اس کاصحیح یا غلط استعمال کرتے ہیں ،انٹرنیٹ آج کل ہر پڑھے لکھے انسان کی ضرورت ہے، ہرشہری اپنا کمپیوٹر نہیں لے سکتا،ایسے لوگ کیفے سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہیں ، انٹرنیٹ ہر طرح کے علم کا سمندر ہے، یہ رابطے کابھی سستا ذریعہ ہے، جیسے: ای میل، میسنجر وغیرہ کی سہولت،آج کل بہت زیادہ کاروبار انٹرنیٹ کے ذریعہ ہورہا ہے، اس کے علاوہ انٹرنیٹ کے استعمال کی بہت سی مفید صورتیں ہیں ؛