نیم عریاں قسم کا نہ ہو اور ایسا لباس بھی نہ ہو جس سے جسم کا کوئی حصہ نمایا ں ہوتا ہو؛ کیونکہ حدیث میں عورتوں کے لئے ایسے لباس پہننے کی ممانعت اور وعید آئی ہے :
نساء کاسیات عاریات ممیلات مائلات لایدخلن الجنۃ ولایجدن ریحہا وان ریحہا لتوجد من مسیرۃ کذا وکذا (۱۵)
بعض عورتیں کپڑا پہننے والی ہیں؛ مگر وہ برہنہ ہیں، دوسروں کو مائل کرنے والی ہیں اورخود مائل ہونے والی ہیں؛ایسی عورتیں ہرگز جنت میں نہیں جائیں گی اور نہ اس کی خوشبو سونگھ پائیںگی، حالانکہ اس کی خوشبو اتنی اتنی دور سےآئے گی۔
(د ) بناؤ سنگھار اور زیب وزینت کے ساتھ اور خوشبو لگا کر نہ نکلے، قرآن کریم میں اس کی ممانعت وارد ہوئی ہے، ارشاد باری ہے:ولا تبرجن تبرج الجاہلیۃ الاولی (الاحزاب:۳۳)اور دکھلاتی نہ پھرو جیسا کہ دکھلانا دستو ر تھا پہلے جہالت کے وقت۔حدیث میں بھی خوشبو لگا کر نکلنے والی عورت کو زانیہ قرار دیا گیا ہے :
کل عین زانیۃ والمراۃ اذا ستعطرت فمرت بالمجلس فہی کذا وکذا یعنی زانیۃ(۱۶)
(ھ) مردوں سے اختلاط نہ ہو، اگر کبھی کسی مر د سے اتفاقیہ گفتگو کی نوبت آئے تو سخت لہجہ اختیار کرے ،اللہ تعالی کا ارشاد ہے :
فلا تخضعن بالقول فیطمع الذی فی قلبہ مرض(الاحزاب:۳۲)
تم بولنے میں نزاکت مت کرو کہ ایسے شخص کو خیال ہونے لگتا ہے جس کے قلب میں خرابی ہو (بیان القرآن)