امہات المؤمنین، اجمالی تعارف
ارشاد باری تعالیٰ ہے: {النَّبِیُّ أَوْلَی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ أَنفُسِہِمْ وَأَزْوَاجُہُ أُمَّہَاتُہُمْ} (الاحزاب :۶)
ترجمہ : ’’بلاشبہ نبی تو اہل ایمان کے لئے ان کی ذات پر مقدم ہے اور نبی کی بیویاں ان کی مائیں ہے‘‘۔
یہ ایک ایسی عظیم الشان آیت ہے جس کو پندرہ صدیوں سے منبرومحراب میں باربار پڑھا جاتا ہے اور تاقیام قیامت اس کو مسلسل دہرایا جاتا رہے گا، جب ایک بندۂ مومن اس کو سنتا ہے تو اس کا دل اجلال واکرام اور عظمت وتوقیر کی کیفیات سے لبریز ہوجاتا ہے، کیونکہ ازواجِ مطہرات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خوشحالی وتنگ حالی ہرحال میں شریک رہیں، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شانہ بشانہ پُرمشقت زندگی اور مصائبِ زمانہ پر صبروثبات کے ساتھ جمی رہیں، آزمائش وآلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جھیلتی رہیں اور دعوت إلی اللہ کی راہ میں آپ ؐ کو جن تکالیف اور پریشانیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا ازواج مطہرات ان کے بوجھ کو ہلکا کرتی رہیں، ان کے گھر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مکمل حیاتِ طیبہ تک مہبطِ وحی اور رحمت وہدایت کامرکز بنے رہے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا سے چل بسے تو یہی گھر تمام لوگوں کے لئے مرکز ومنبع اور سرچشمۂ ہدایت بن گئے، لوگ ان کے پاس حاضر ہوتے، کوئی حصول علم کی غرض سے آتا ،کوئی مسئلہ دریافت کرنے آتا، یا کوئی سائل اور فریادی بن کر آتا، چنانچہ ازواج مطہرات حیران وپریشان شخص کی رہنمائی فرماتیں، ناواقف کو تعلیم دیتیں، فریادی کی حمایت کرتیں، طالبِ حاجت کی مدد کرتیں، مختلف طبقات اور مختلف حیثیتوں کے مالک تمام لوگ (یہاں تک کہ) خلفائے راشدین