بہتر معاملہ کرنے والا کوئی نہیں دیکھا۔
حضرت خدیجہ -رضی اللہ عنہا- آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت اور امانت داری سے نہایت متأثر ہوتی ہیں، اس لئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کرتی ہیں کہ ان کا تجارتی مال لے کر شام چلے جائیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اپنے غلام میسرہ کو بھی بھیجتی ہیں۔
اس وقت حضرت خدیجہ -رضی اللہ عنہا- کی خوشی کی کوئی انتہا نہیں رہی جب اس مرتبہ ان کے مال میں پہلے کے مقابلہ میں کہیں زیادہ فائدہ ہوا، لیکن آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ -رضی اللہ عنہا- کی امانتداری، محنت واستقامت اور عفت وپاکدامنی کے بارے میں میسرہ کی رودادِ سفر اس سے بھی کہیں زیادہ فرحت بخش تھی۔
حضرت خدیجہ -رضی اللہ عنہا- نے اپنے قوی احساس اور آخری درجے کی ذہانت سے اس کو بھانپ لیا کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات عالی عام لوگوں سے کہیں بلند مقام رکھتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کی طرح نہیں ہیں جنہوں نے حضرت خدیجہؓ سے شادی کرنے کے لئے پہلے ہی پیغام نکاح دے دیا تھا اور ان کے پیش نظر صرف آپ کی عزت وجاہ، مال و دولت اور حسن وجمال تھا، ایک طرف وہ بڑے بڑے سرداران قریش میں سے ہر ایک کی درخواست کو یکے بعد دیگرے ٹھکرا چکی تھیں لیکن دوسری طرف آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے تئیں وہ بذات خود اپنے آپ کو پیش کرنے کی شدید رغبت محسوس کرتی ہیں،وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجیت میں آنے کے لئے بے قرار ہوجاتی ہیں، لیکن یہ تمنا کیسے پائے تکمیل کو پہنچے، اس کا کیا طریقہ ہو؟ کیونکہ معاشرہ کے رسم ورواج اس میں آڑے آرہے ہیں۔۔۔۔۔؟
وہ اپنی ایک سہیلی نفیسہ بنت منیہ کے پاس جاتی ہیں اور ان سے اپنی اس دلی تمنا کا اظہار کرنے کے بعد ان سے مشورہ طلب کرتی ہیں۔۔۔۔۔ وہ یہ رائے دیتی ہیں کہ میں بذات خود اس کام کو انجام دے دوں گی، وہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آپؐ کی رائے