غالباً علی ماء الحوض الخ (۱) اور اسی موقع پر علامہ شامی نے آخر میں یہ حدیث نقل فرمائی ہے۔ویشھد لہ مافی سنن ابن ماجۃ عن جابر رضی اﷲ عنہ انتھیت الی غدیر فاذا فیہ حمارمیت فکففنا عنہ حتی انتھی الینا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فقال ان الماء لا ینجسہ شئی فاستقیناہ واروینا وحملنا الخ (۱۲۸ شامی(۲) جلد اول۔ ان روایات سے معلوم ہوا کہ تالاب مذکور کے پانی کو پاک ہی سمجھنا چاہئے اور وضووغیرہ اس سے درست ہے اور پانی کے بارہ میں جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے سہولتیں فرمائی ہیں اور فقہاء نے اس میںعموم بلویٰ کا لحاظ فرمایا ہے اور وسعت فرمائی ہے ایسا ہی رکھنا چاہئے لوگوں پر تنگی نہ کرنی چاہئے ۔ خود اپنا اختیار ہے احتیاط کر لیوے ۔ لیکن عموماً نجاست کا حکم نہ دیوے، ورنہ تما م تالابوں کو بعد پر ہونے کے بھی نجس کہاجاوے اور اس میں جو کچھ دشواریاں اور دقتیں اورحرج ہے وہ ظاہر ہے ، حالانکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے لیس علیکم فی الدین من حرج۔(۳) فقط ۔
حدیث قلتین اور ا س کا جواب
(سوال ۱۵۲) کہتے ہیں کہ پانی سب پاک ہے کوئی نجس چیز پڑجاوے لیکن مزہ اور رنگ نہ بدلے ۔ قلتین کی حدیث پیش کرتے ہیں۔ ماء جاری وغیر جاری کی قید نہیں لگاتے؟
(جواب)پانی کی بحث اور قلتین کی تحقیق کتاب ایضاح الادلہ میں مفصل ہے ۔(۴) اس سے سب شبہات حل ہوجاویں گے ۔(۵)فقط۔
مٹکے میں چھپکلی گر کر مرجاے تو کیا حکم ہے
(سوال ۱۵۳) سقاوہ مسجد میں چھپکلی گر کر مر گئی اس سے نمازی وضو وغسل کرتے رہے ، جب پانی میں بدبو پیدا ہوئی تو یہ معاملہ ظاہر ہوا ، توسقاوہ نجس ہے یا نہیں اور مصلیوں نے جو اس درمیان میں نماز پڑھی وہ کافی ہے یااعادہ کیا جائے ۔
(جواب)چھپکلی اگر چھوٹی ہے کہ اس میں خون بہنے والا نہیں ہے جیسا کہ عموماً گھروں میں ہوتی ہے تو اس کے پانی میں مرنے سے پانی ناپاک نہیں ہوتا لہذا اعادئہ وضو ونماز وغیرہ کی ضرورت نہیں ہے فقط۔(۶)
گوبر لگے ہوئے مشک کا پانی پاک ہے یا ناپاک
(سوال ۱۵۵) جب حمام میں سقے پانی ڈالتے ہیں تو مشک پر جو گوبر ، گارہ لگا ہوتا ہے وہ حما م میں جاتا ہے ، ہم نے خود دیکھا ہے تو یہ پانی نجس ہے یا نہیں۔ اس سے وضو وغسل درست ہے یا نہیں؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)ر د المحتار باب المیاہ ص ۱۷۶ ج۱۔ط۔س۔ج۱ص۱۹۱۔ ۱۲ظفیر۔
(۲)رد المحتار باب المیاہ ص ۱۷۶ ج۱ ۔ط۔س۔ج۱ص۱۹۱۔۱۲ظفیر۔
(۳)سورۃ الحج رکوع ۱۷۔۱۲ ظفیر۔(۴)ایضاح الا دلہ مصنفہ شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب ؒ ۱۲ظفیر۔
(۵)وفی البدائع عن ابن المدینی لا یثبت حدیث القلتین فبطل الا ستدلال بہ علی المراد اغنیۃ المستملی ص۹۴ظفیر۔
(۶)وموت مالیس لہ دم سائل لا ینجس الماء ولا غیرہ اذا وقع فیہ مات اومات ثم وقع فیہ (غنیۃ المستملی ص۱۶۲)وکالحیۃالبریۃ والوزغۃ لو کبیرۃ لھادم سائل (رد المختار باب المیاہ ج۱ ص ۱۷۱۔ط۔س۔ج۱ص۱۸۵)ظفیر۔