(جواب)(۱)رطوبت فرج خارج پاک ہے وامارطوبتہ الفرج الخارج فطاھرۃ اتفاقا(۱) در مختار اور رطوبت فرج داخل ناپاک ہے ومن وراء باطن الفرج فانہ نجس قطعا (۲) شامی باب الا نجاس ص ۳۲۲ ۔ پس اگر وہ سفید پانی اندر سے آیا ہے تو وہ ناپاک ہے اگر قدر درہم سے زیادہ بدن یا کپڑے کو لگ جائے تو دھونا چاہئے۔
(۲)جو پیپ کہ زخم سے باہر نہیں تھی وہ ناپاک نہیں ہے ، اگر کپڑے یا بدن کو لگ جاوے اگر چہ مقدار درہم سے زیادہ ہو ، کپڑا اور بدن ناپاک نہ ہوگا۔ وہ اگر پانی پر کر زیادہ بھی ہوجائے تو کچھ حرج نہیں ہے جیسا کہ درمختار میں ہے وکل مالیس بحدث لیس بنجس الخ۔(۳) اور نجاست اگر درہم سے کم بدن یا کپڑے کو لگے ، اور پانی لگ کر زیادہ ہوجائے تو وہ مانع عن الصلوٰۃ نہیں ہے ۔ کما فی الشامی وان کثر باصابۃ الماء الخ ۔(۴)
آدمی کی رال پاک ہے
(سوال ۳۹۸) آدمی کے منہ سے جو رال آتی ہے وہ پاک ہے یا ناپاک ؟
(جواب)منہ سے جو رال آتی ہے وہ پاک ہے کما ء فم النائم فانہ طاھر مطلقاً وبہ یفتی بخلاف ماء فم المیت فانہ نجس الخ۔(۵)
کتا نجس عین ہے یا نہیں اور اس کا کیا حکم ہے ؟
(سوال ۳۹۹) کلب نجس العین ہے یا نہیں ۔ اگر نجس العین نہیں تو جن روایات و عبارات سے نجس العین ہونا کلب کا معلوم ہوتاہے اور یہ کہ اگر پاک پانی کتے کے پاک جسم سے لگا تو وہ پانی ناپاک ہوگیا ، ان کے کیا معنی ہوں گے؟
(جواب)صحیح یہی ہے کہ کلب نجس العین نہیں ہے ، جن روایات سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کلب نجس العین ہے ، اور پانی جو اس کے جسم کو لگا وہ ناپاک ہے ۔ یہ قول ضعیف ہے مفتی بہ نہیں ہے ، احتیاط امرآخر ہے ۔ مگر باعتبار قول اصح و مفتی بہ کے وہ پانی پاک نہیں ہے ، دلائل کتب فقہ آپ کو خود معلوم ہیں ۔(۶)فقط
منی دھونے کے بعد جو دھبہ رہ جائے اس کے ساتھ نماز ہوگی یا نہیں؟
(سوال ۴۰۰) احتلام کے بعد اگر کپڑا دھو ڈالے اور اس پر دھبہ لگا رہ جاوے تو کیا نماز ہو جاوے گی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)رد المحتار اباب الانجاس ص ۲۸۸ جلد ا ول ۔ط۔س۔ج۱ص۱۲۳۱۳ ظفیر۔
(۲)رد المحتار باب الا نجاس ص ۲۸۸ جلد اول۔ط۔س۔ج۱ص۱۴۰ ۱۲ظفیر۔
(۳)الدرالمختار علی ہامش ردالمحتارکتاب الطہارۃ ص ۱۳۰ ج۱۴۰۱۔۱۲ظفیر۔
(۴)رد المختار باب الا نجاس ص ۲۹۹ جلد اول ۔ط۔س۔ج۱ص۱۲۱۳۸ ظفیر۔
(۵)الدر المختار علی ہامش ردالمحتارنواقض وضو ج ۱ ص ۱۲۸۔ط۔س۔ج۱ص۱۳۸ قبیل مطلب فی حکم کیّ الحمصۃ لعاب النائم طاھر سواء کان من الفم او منبعثا من الجوف عند ابی حنیفۃ و محمد رحمۃ اللہ علیہما وعلیہ الفتویٰ واما لعاب المیت فقد قیل انہ نجس ھکذا فی السراج الو ھاج (عالمگیری مصری باب فی النجاست فصل ثانی ج۱ ص ۴۳۔ط۔ماجدیہ ج۱ص۴۶)ظفیر۔
(۶)واعلم انہ لیس الکلب بنجس العین عند الا مام وعلیہ الفتویٰ وان رجح بعضھم النجاسۃ فیباع ویوجر و یضمن ویتخذ جلدہ مصلی ودلوا ولو اخرج حیا ولم یصب فمہ الماء لا یفسد ماء البئر ولا الثوب بانتفاضہ الخ (الدر المختار علی ہامش ردالمحتارباب المیاہ ص ۱۹۲ج۱)قولہ وعلیہ الفتوی و ھو الصحیح والا قرب الی الصواب بدائع وھو ظاھر المتون بحر مقتضی عموم الا دلۃ فتح ، قولہ ولا الٓثواب بانتفاضہ الخ وما فی الو لوالجیۃ وغیرھا اذا خرج الکلب من الماء وانتفض فاصاب ثوب انسان افسدہ لالواصابہ ماء المطر لان المبتل فی الا ول جلدہ وھو نجس وفی الثانی شعرہ وھو طاھر اھ فھو علی القول بنجاسۃ عینہ کما فی البحر (رد المختار باب المیاہ ج۱ ص ۱۹۲۔ط۔س۔ج۱ص۲۰۸)ظفیر۔