تشہد نماز میں واجب ہے:۔
(سوال۲۵۸ ) تشہد نماز میں افضل ہے یا نہیں ۔
(جواب)تشہد یعنی التحیات پڑھنا نماز میں واجب اور ضروری ہے ۔(۱)فقط۔

فرضوں کی دو رکعت خالی اور سنتوں کی سب بھری میں کیا حکمت ہے:۔
(سوال ۲۵۹) فرضوں میں دو رکعت خالی پڑھی جاتی ہیں اور سنتوں میں بھری اس میں کیا حکمت ہے ۔
(جواب)فرضوں میں دو رکعت کاخالی رکھنا یا صرف سورۃ فاتحہ پڑھنا وارد ہوا اس وجہ سے ان کو خالی رکھتے ہیں ۔(۲)اور سنتوں میں اور نفلوں میں ہر ایک شفعہ نماز کا علیٰحدہ ہے اس واسطے سب رکعتوں کو بھری پڑھنا چاہئے ۔(۳)فقط۔

کیا ہر مکروہ تحریمی سے نماز کا اعادہ واجب ہے :۔
(سوال ۲۶۰) ہر مکروہ تحریمی فعل سے نماز کا اعادہ واجب ہے یا نہیں ۔
(جواب)مکروہ تحریمی فعل سے بے شک اعادہ نماز کا واجب ہوتا ہے (۴)اور تفصیل کا اس وقت موقع نہیں ہے ۔فقط۔

بغیر تعدیل ارکان جو نمازیں پڑھی گئیں ان کا کیاحکم ہے:۔
(سوال ۲۶۱) ایک شخص کی عمر بیس سال کی ہے اس عرصہ میں اس نے کوئی نماز درست نہیں پڑھی صرف دو ٹکر مار کر نماز ختم کر دیتا ہے ۔ یہ نمازیں ہوئیں یا نہیں ۔اگر اعادہ کرے تو صرف فرغن ہی ادا کرے یا سنت بھی ۔
(جواب)جونمازیں تعدیل ارکان کے ساتھ ادا نہیں ہوئیں اگرچہ وہ ہوگئیں ہیں لیکن ان کا اعادہ (دہرالینا )اچھا ہے۔(۵)فرض اور وتر کا اعادہ کرے، سنتوں کا اعادہ نہ کرے۔

فصل ثالث۔ سنن وکیفیت نماز
تسبیحات رکوع و سجود کی تعداد:۔

(سوال ۲۶۲) نماز میں تسبیحات رکوع وسجود دس مرتبہ اور تین مرتبہ سے زیاہ کہنے سے نماز مکروہ ہوتی ہے یا مستحن۔قومہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)ومنھا قراء ۃ التشھد فافیما واجبۃ فی القعدتین الا ولی والا خیرۃ الخ فاوجب السجود بترک التشھد فی القعدۃ الا ولی کما فی القعدۃ الا خیرۃ وھو ظاہر الروایۃ (غنیۃ المستملی ص ۲۹۰)ظفیر۔
(۲)وعن ابی قتادۃ قال کان النبی صلی اﷲ علیہ وسلم یقرأ فی الظھر فی الاولیین بام الکتاب وسورتین وفی الرکعتین الاخریین بام الکتاب… وھکذافی العصر (مشکوٰۃ باب القرأۃ فی الصلوٰۃ ص ۷۹)ظفیر۔
(۳)وضم سورۃ الخ فی الا ولیین من الفرض الخ وفی جمیع رکعات النفل لان کل شفع منہ صلاۃ (الدر المختار علی ہامش رد المحتار۔ باب صفۃ الصلوٰۃ واجبات الصلوٰۃ ج۱ ص ۳۲۷۔ط۔س۔ج۱ص۷۵۸)ظفیر۔
(۴)وکذا کل صلاۃ اذیت مع کراھۃ التحریم تجب اعادتھا (الدر المختار علی ہامش رد المحتار۔ باب شروط الصلوٰۃ ج۱ ص ۴۲۵۔ط۔س۔ج۱ص۴۵۷)ظفیر۔(۵)ولھا واجبات لاتفسد بترکھا وتعاد وجوبا فی العمد والسھو ان لم یسجد لہ وان لم یعدھا یکون فاسقا اٰثما الخ وھی قرأۃ فاتحۃ الخ وتعدیل الارکان (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب صفۃ الصلاۃ مطلب واجبات الصلوٰۃ ج۱ ص ۴۲۴۔ط۔س۔ج۱ص۴۵۶)ظفیر۔