(الجواب ) (۱)یہ کفر کے حکم میں نہیں فسق ہے ایسے امام کے پیچھے نماز اگرچہ درست ہے مگر مکروہ تحریمی ہے ۔ واجب ہے کہ اس کو معزول کر یں اور کسی اور کو امام بناویں کیونکہ اس کلمہ کے سبب سے فاسق کا حکم دیا جاوے گا۔
(۲)جس کی بینائی میں نقصان ہو مگر نجاسات سے بچتا ہو اس کے پیچھے نماز بلا کراہت درست ہے ۔ اور اگر نجاست سے نہیں بچ سکتا تو مکروہ ہے۔درمختار میں ہے۔ویکرہ امامۃ عبد ونحوہ الا عشی۔درمختار۔(۱) فقط۔
داڑھی منڈے کی امامت:
(سوال ۱/۱۱۴۶) ایک شہر میں انگریزی مدرسہ ہے جس میں علاوہ درسی تعلیم کے دینیات بھی پڑھاتے ہیں لیکن سرکاری قانون پر عمل در آمد ہوتا ہے۔ مثلاً آج کل مدرسہ کا وقت دس بجے صبح سے تین بجے شام تک ہے ۔ درمیان میں ایک بجے بیس منٹ کی چھٹی ہوتی ہے اور اس وقت وہ نماز ادا کرتے ہیں اور جمع ہو کر جماعت سے نماز ادا کرتے ہیں ۔ اگر طلبہ کو کسی وجہ سے دیر ہوجاتی ہے تو قطع نظر نقصان کے اسکول سے ان سے جواب طلب ہوجاتا ہے۔ اس لئے اگر دیر ہوتی ہو اور امام موجود ہو تو کسی طالب علم کو جو کہ داڑھی منڈاتا ہے لیکن حافظ قرآن اور صوم وصلوٰۃ کا پابند ہے اور د وسرے طلبہ میں فوقیت رکھتا ہے امام بنانا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہیں ہے تو لڑکوں کو جدا گانہ نماز پڑھ کر مدرسہ چلا جانا چاہئے یا نہیں ؟
امام متعین کی اجازت کے بغیر ان کی موجودگی میں دوسرے کی امامت:
(الجواب ۲/۱۱۴۷) اگر اہل اسلام کی کوئی جماعت کسی مسجد میں جاکر وقت معینہ پر یا بعد میں امام کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کسی ضرورت کی وجہ سے اپنے گروہ میں سے سب سے بزرگ شخص کو امام بنا کر جماعت سے نماز ادا کریں تو امام مسجد یا کسی اور کو یہ حق ہے کہ ان کو روک دے یا یہ حق نہیں ؟
الجواب:۔اگر اس مسجد کے امام اور نمازی نہ آئے ہو تو لڑکوں کو مسجد میں جماعت نہ کرانی چاہئے۔ البتہ مسجد سے خارج کوئی جگہ ہو تو اس میں علیٰحدہ جماعت کر لیں اور اپنی جماعت میں سے جو امامت کے لائق ہو اس کو امام بنا لیا جائے ۔ نماز ہر ایک مسلمان کے پیچھے ہوجاتی ہے ۔ یہ فرق ضرور ہے کہ نیک آدمی کے پیچھے زیادہ ثواب ہے اور داڑھی منڈے کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے اور ثواب کم ہے قال فی الجوھرۃ ص۵۸ فان تقدموا جاز لقولہ علیہ السلام صلوا خلف کل برو فاجر۔(جمیل الرحمن)
(۲)مسجد کے امام معین کے سوا کسی دوسرے شخص کو اس مسجد کے امام کی موجودگی یا عدم موجودگی میں امام معین کی اجازت کے بغیر امام بننا اور جماعت کرنا نہ چاہئے ۔ اگر امام معین اور محلہ کے نمازیوں کی جماعت کے وقت میں دیر ہو تو یہ لوگ اپنی جماعت خارج از مسجد کسی جگہ دالا ن یا صحن یا جنگل میں پڑھ لیں اور اگر مسجد میں بھی پڑھ لیں گے تونماز ہوجائے گی لیکن ان کو اس طرح جماعت کرنا بہتر نہیں ہے ۔ مسجد کے نمازیوں اور جماعت کا انتظار کریں ورنہ اکیلے نماز پڑھ لیں ۔ الغرض اہل محلہ اور امام معین کے سوا دوسرے محلہ کے آدمیوں کو یہ مناسب نہیں ہے کہ اہل محلہ جماعت سے پہلے اس مسجد میں جماعت کریں اور اگر کریں گے تو ہل محلہ پھر جماعت کر سکتے یں اور جماعت اولیٰ کا ثواب انہیں کو ملے گا۔ وہ جماعت جو پہلے ہوئی اس کا کچھ اعتبار نہیں ہوگا ۔ ہکذا فی کتب الفقہ ۔ فقط۔ دلیلہ قول الدر المختار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب الا مامۃ ج۱ ص ۵۲۳۔ط۔س۔ج۱ص۵۵۹…۵۶۰۔۱۲ظفیر۔