دوسری رکعت میں شامل ہوا تو پہلی رکعت کس طرح ادا کرے قراء ت کرے یا نہیں :
(سوال ۱/۱۲۸۸) دوسری رکعت میں امام کے ساتھ مقتدی جماعت میں شامل ہوا، ایک رکعت جو مقتدی امام کے سلام کے بعد پڑھے گا اس میں کچھ پڑھے گا یا نہیں ۔
تیسری رکعت یں شریک ہوا تو بقیہ رکعت میں وہ قراء ت کرے گا یا نہیں :
(سوال ۲/۱۲۸۹) مقتدی تیسری رکعت میں شامل ہوا امام کے ساتھ ایک رکعت پڑھی امام نے سلام پھیرد یا تو مقتدی کھڑا ہو کر کچھ پڑھے گا یا نہیں ۔ اور تیسری چوتھی میں بھی کچھ پڑھے گا یا نہیں ۔
(الجواب ) (۱)اس میں الحمد اور سورۃ پڑھے گا ۔
(۲)تیسری رکعت میں اگر مقتدی امام کے ساتھ شامل ہوگیا تو اس کی دو رکعتیں فوت ہوئیں ۔ امام کے سلام پھیرنے کے بعد کھڑا ہو کر دونوں رکعتیں الحمد او ر سورۃ کے ساتھ پڑھے۔(۱)
کوئی دوسری رکعت میں ملا مگر امام کے ساتھ سلام پھیر دیا تو اب کیا کرے:
(سوال ۱۲۹۰) ایک شخص دوسری رکعت میں امام کے ساتھ ملا امام نے سلام پھیرا تو اس نے بھی پھیر دیا بعد میں یا د آیا تو اب باقی رکعت پڑھ سکتا ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) مسبوق نے اگر سہواً امام کے ساتھ سلام پھیر دیا خواہ ایک طرف یا دونوں طرف اس طرح کہ مسبوق کا سلام امام کے سلام کے کچھ بعد واقع ہوا جیسا کہ عادت ہے تو مسبوق اٹھ کر اپنی باقی رکعات پوری کر سکتا ہے نماز اس کی فاسد نہیں ہوئی (وان سلم (ای المسبوق) بعدہ (ای بعد الا مام) لزمہ (سجود السھو) لکونہ منفرداً حینئذ۔(۲)بحر۔ شامی۔
امام رکوع میں تھا کہ ایک شخص آیا تو وہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ رکوع میں چلا جائے یا
رکوع کی تکبیر بھی کہے:

(سوال ۱۲۹۱) امام رکوع میں ہے کہ ایک شخص آیا۔ کیا وہ تکبیر تحریمہ کہہ کر رکوع میں چلا جاوے یا تکبیر تحریمہ کہہ کر پھر رکوع کی تکبیر کہے
(الجواب ) تکبیر تحریمہ کہہ کر پھر دوسری تکبیر کہہ کر رکوع میں جانا چاہئے ۔ یہ طریقہ مسنون ہے لیکن اگر صرف تکبیر تحریمہ ہی کہہ کر بلا تکبیر ثانی رکوع میں چلا گیا اور امام کے ساتھ شریک ہوگیا تو وہ رکعت اس کو مل گئی اور نماز بھی صحیح ہوگئی ۔(۳)
رکوع میں ملے تو تحریمہ کے بعد ہاتھ باندھے پھر رکوع کرے یا
بغیر ہاتھ باندھے ہوئے رکوع میں جائے:

(سوال ۱۲۹۲) امام رکوع یا سجدہ میں ہے ایک شخص آیا تو اس کو تکبیر تحریمہ کہہ کر ہاتھ باندھ کر رکوع یا سجدے میں جانا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)والمسبوق من سبقہ الا مام بھا او ببعضھا وھو منفرد حتی یثنی ویتعوذو یقرأ الخ فیھا یقضیہ الخ ویقضی اول صلاتہ فی حق قراء ہ واخر ھا فی حق تشھد (الدر المختار علی ہامش ردالمحتارمطلب فی احکام المسبوق الخ ج۱ ص ۵۵۷۔ط۔س۔ج۱ص۵۹۶)ظفیر۔
(۲) ردالمحتارباب سجود السہو ج۱ ص ۶۹۶۔ط۔س۔ج۲ص۸۳ ۔۱۲ظفیر۔
(۳)وسننھار فع الدیدین للتحریمہ فی الخلاصہ ان اعتاد ترکہ اثم الخ ووضع یمینہ علی یسارہ الخ وتکبیرہ الرکوع (الدر المختار علی ہامش ردالمحتارباب صفۃ الصلوٰۃ مطلب سنن الصلوٰۃ ج۱ ص ۴۴۳۔ط۔س۔ج۱ص۴۷۶)ظفیر۔