عادل گواہوں کی شہادت پر نماز عیدین
(سوال ۲۶۰۹) بعض لو گوں نے جمعرات کو اور بعض نے جمعہ کو نماز عید الضحیٰ پڑھی اوراس زمانہ میں کہ عادل کی صفت مفقود ہے شرائط عادل وغیرہ ہونا گواہان رویت ہلال کو ضروری ہے یا کلمہ شہادت پڑھ دینے کے بعد کافی شہادت متصور ہوگی اور جن لوگوں نے جمعرات کو نماز عید الضحیٰ کی پڑھی وہ نماز ہوئی یا نہیں اور جنہوں نے جمعہ کو پڑھی وہ ہوئی یا نہ ۔ اور کیا گیارہویں بارہویں تاریخ کو بھی نماز عید الا ضحی ہوسکتی ہے ۔
(الجواب ) عدالت گواہان کی ثبوت رویت ہلا ل کے لئے ضروری ہے اور جب کہ گواہ عادل نہ ہوں تو ان کی گواہی پر اعتماد کر کے پنجشنبہ کو نماز عیدالاضحیٰ نہ پڑھنی چاہئے تھی او روہ نماز نہیں ہوئی۔ (۱) جن لوگوں نے جمعہ کو نماز پڑھی وہ حق پر ہیں ۔ اور یہ صحیح ہے کہ عیدالاضحی کی نماز عذر کی وجہ سے گیارہ بارہ تاریخ کو بھی ہوسکتی ہے ۔ (۲) فقط۔
عیدین میں خطبہ کہاں سے دے
(سوال۲۶۱۰) عیدین کے خطبہ میں امام کس جگہ کھڑاہوکر خطبہ پڑھے ، بعض مولوی کہتے ہیں کہ جس جگہ نماز پڑھے اسی جگہ خطبہ پڑھے دوسری جگہ خطبہ پڑھنا جائز نہیں ۔
(الجواب) بعد نماز عیدین کے امام منبر پرکھڑا ہوکر خطبہ پڑھے یہی سنت ہے۔نماز اور خطبہ کی جگہ ایک نہیں ہوتی نماز پڑھانے کے لئے امام نیچے کھڑا ہوتاہے اور خطبہ منبر پر جاکر پڑھتاہے۔(۳) فقط۔
دو عادل گواہ کی گواہی سے رویت ثابت ہوجاتی ہے
(سوال ۲۶۱۱) زیدو عمر نے جن میں بظاہر کوئی خرابی نہیں ہے عید الاضحی کا چاند انتیس ۲۹ کو دیکھا اور قاضی کے پاس شہادت دی قاضی نے شہادت کو تسلیم کر کے حکم دے دیا ۔ ایک گروہ نے تیس کے چاند کے حساب سے عید کی اور ایک گروہ نے انتیس کے حساب سے اور ایک گروہ نے دونوں دن نماز پڑھی اس صورت میں قاضی اور گروہ مذکور کے لئے کیا حکم ہے اور شاہدین کے لئے کیا ۔
(الجواب ) اگر دو گواہ عادل نے شہادت رویت ہلال کی دی تو رویت ثابت ہوگئی سب کو وہاں اسی کے موافق عیدالاضحی کی نماز ادا کرنی چاہئے تھی ، جنہوں نے باوجود عدالت شہود اس شہادت کے موافق عمل نہ کیا غلطی کی لیکن اگر شہود با قاعدہ شرعیہ عاد ل و متقی پرہیزگارنہ تھے تو پھر اس پر عمل نہ کرنے والے حق پر تھے ۔ واضح ہو کہ قاضی شرعی اس زمانہ میں ایسا نہیں ہے جس کا حکم باوجود گواہوں کے عادل و ثقہ نہ ہونے کے ناقذ مانا جائے۔(۴)فقط۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)للصوم مع غیم وغبار خبر عدل لاامستور الخ لا فاسق اتفاقا (الدر المختار علی ہامش ردالمحار کتاب الصوم ج ۱ ص ۱۲۳۔ط۔س۔ج۲ص۳۸۵) ظفیر۔
(۲)لکن ھنا یجوز تاخیرھا (ای فی صلاۃ الا ضحیٰ) الی اخر ثالث ایام النحر بلا عذر مع الکراھۃ وبہ ای بالعذر بدونھا (الدر المختارباب العیدین ج ۱ص ۷۸۳۔ط۔س۔ج۲ص۱۸۶) ظفیر۔
(۳)وما سنّ فی الجمعۃ ویکرہ یسن فیھا ویکرہ الخ وان یکبر قبل نزولہ من المنبر (الدر المختار علی ہامش ردالمحار باب العیدین ج ۱ص ۷۸۲۔ط۔س۔ج۲ص۱۷۵) ظفیر۔
(۴)ولو کانو اببلدۃ لا حاکم فیھا صاموا بقول ثقۃ وافطر وابا خبار عدلین مع العلۃ للضرورۃ(الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الصوم ج ۲ ص ۱۲۵۔ط۔س۔ج۲ص۳۸۶) ظفیر۔