بدعدت گفتہ صحیح نیست۔(۱)فقط۔
نماز عید کے پہلے یا بعد عید گاہ میں نفل پڑھنا کیسا ہے
(سوال ۲۶۳۵) چہ می فرمایند علماء دین و مفتیان شرع متین اندرین مسئلہ کہ خواندن نماز نفل در عید گاہ قبل یا بعد نزد علماء حنفیہ رواست یا نہ ؟
(الجواب ) در مختار میں ہے ولا یتنفل قبلھا مطلقا وکذالایتنفل بعدھا فی مصلھا (۲) قال الشامی قولہ وکذا لا یتنفل الخ لما فی الکتب الستۃعن ابن عباس ؓ ا نہ صلی اﷲ علیہ وسلم خرج فصلی بھم العید لم یصل ولا بعدھا وھذا لقی بعدھا محمول علیہ فی المصلی (۳) الخ واﷲ اعلم۔ فقط۔
مفسد صلوٰۃ ؑقرائت کی صورت میں دوسری جماعت کر سکتا ہے
(سوال ۲۶۳۶) اگر عیدین کا امام غلط خواں ہے تو اس کی امامت جائزہے یا نہیں اور دوسرا امام نہیں ہوسکتا کیونکہ عوام الناس نہیں چاہتے لہذا شہر کی مسجدوں میں نماز عیدین پڑھنا کیسا ہے۔
(الجواب ) عیدین کی نماز مسجدوں میں بھی صحیح ہے (۴) اگر عیدین کا امام ایسی غلطی کرتا ہے کہ جس سے فساد نماز ہوتو مسجد میں جدا جماعت کر لیناچاہئے اور اگر ایسی غلطی نہیں کرتا جو مفسد صلوٰۃ ہو اور علیٰحدہ ہونے میں فتنہ ہو تو اسی امام کے پیچھے نماز پڑھ لیں ۔ (۵) فقط۔
تکبیرات تشریق فرض نماز کے بعد صرف ایک مرتبہ ہے
(سوال ۲۶۳۷) ایام تشریق میں تکبیرہر نمازفریضہ کے بعد کہی جاتی ہے۔ زید کہتا ہے کہ ایک مرتبہ کہنا واجب ہے اور عمر کہتا ہے کہ تین مرتبہ کہنا چاہئے، اس صورت میں حق پر کون ہے ۔
(الجواب ) تکبیر تشریق ایک دفعہ کہنا واجب ہے اس سے زیادہ واجب نہیں ہے اور در مختار میں عینی سے نقل کیا ہے کہ زیادہ کہنے میں فضیلت او ر ثواب ہے کچھ حرج نہیں ہے ۔(۶) لیکن شامی میں ابو السعود سے نقل کیا ہے کہ ایک مرتبہ سے زیادہ کہنا خلاف سنت ہے پس بہتر ہے کہ ایک دفعہ پر اکتفاء کیا جائے ۔ عبارت شامی کی یہ ہے ان الاتیان بہ مرّتین خلاف السنۃ الخ ج ۱ ص ۵۶۳ شامی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)وید عوویختم بسبحان ربک (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب صفتہ الصلوٰۃ ج ۱ ص ۴۹۵۔ط۔س۔ج۱ص۵۳۰) عن ام عطیۃ قالت امرنا ان نخرج الحیض یوم العیدین وذوات الخدور فیشھدن جما عۃ المسلمین ودعوتھم وتعتزل الحیض (مشکوٰۃ باب العیدین ص ۱۲۵)ظفیر۔(۲)الدر المختار باب العیدین ج ۱ ص ۱۱۴۔ط۔س۔ج۲ص۱۶۹…۱۷۰) ظفیر۔(۳)وتودی بمصر واحد بمواضح کثیرۃ اتفاقا (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب العیدین ج ۱ ص ۷۸۳۔ط۔س۔ج۲ص۱۷۶) ظفیر۔(۴)الفاسق اذا کان یئوم یوم الجمعۃ وعجز القوم عن منعہ قال بعضھم یقتدی بہ فی لاجمعۃ ولا تترک الجمعۃ بامامۃ وفی غیر الجمعۃ یجوز ان یتحول الی امسجد اخر ولا یا تم بہ (عالمگیری مصری فی الا مامۃ ج ۱ص ۸۱۔ط۔ماجدیہ ج۱ص۸۶)طفیر۔(۵)ولا یجوز امامۃ الا لثغ الذی لا یقدر علی التکلم ببعض الحروف الالمثلہ اذا لم یکن من یقدر علی التکلم بتلک الحروف فاما اذا کان فی القوم من یقدر علی التکلم بھا فسدت صلا تہ وصلاۃ القوم الخ ایضا ً ج ۱ ص ۸۰۔ط۔س۔ج۲ص) ظفیر۔(۶) ردالمحتار باب العیدین ویجب تکبیر التشریق فی الا صح للامربہ مرۃ وان زادعلیھا یکون فضلا قال العینی صفتہ اﷲ اکبر الخ (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب العیدین مطلب فی تکبیر التشریق ج ۱ص ۷۸۴ و ج ۱ ص ۷۸۵۔ط۔س۔ج۲ص۱۷۷…۱۷۸)ظفیر۔