کے خلعت عیدین بھی ملتی ہے ۔ آبادی شہر کی وجہ سے عید گاہ مذکور آبادی میں آگئی ہے مگر اب تک اس عیدگاہ میں نماز عیدین پڑھی جاتی ہے ، زمین عیدگاہ بالکل کھلی ہوئی ہے اس میں کس قسم کی عمارت نہیں ہے اب اگر اس عید گاہ میں کچھ عمارت کی جائے تو عید گاہ کی حیثیت بگڑ جاتی ہے اور عید گاہ نہیں رہتی تو اس میں عمارت بنانا جائز ہے یا نہ۔ عمارت بنانے سے انعام زمین کے ضبط ہونے کا اندیشہ ہے ۔ فقط۔
(الجواب ) وہ عیدگاہ وقف ہے اس میں کوئی تصرف تعمیر مکان وغیرہ ۔ کا درست نہیں ۔ (۱) البتہ اگر نمازیوں کے آرام کے لئے دھوپ اور بارش سے بچنے کے لئے کوئی درجہ مسقف کر دیا جائے مثل مسجد کے تو اس میں کچھ حرج نہیں ہے ۔ فقط۔
تعمیر عیدگاہ میں ہندو کا روپیہ لگانا ناجائز ہے
(سوال ۲۶۶۳) تعمیر عیدگاہ میں ہنود کا روپیہ لینا جائز ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) جائز ہے ۔ فقط۔
عید گاہ کی زمین فروخت نہیں کی جاسکتی
(سوال ۲۶۶۴) کھنڈوہ میں عید گاہ کے قریب پتھر کی کھدان ہے جو پہلے بہت فاصلہ پر تھی مگر اب اس قدر قریب ہوگئی ہے کہ جس وقت پتھر میں سرنگ لگا یا جاتا ہے عیدگاہ کی دیواریں ہل جاتی ہیں جس سے اس کے گرنے کا احتمال ہے لہذا اگر سرکار زمین اور عمارت عیدگاہ کا معاوضہ دیوے تو دوسری جگہ عید گاہ بنائی جا سکتی ہے اور موجودہ عید گاہ کو سر کار اپنے کام میں لا سکتی ہے یا نہیں ۔(۲)عید گاہ مسجد کے حکم میں ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) عید گاہ وقف ہوتی ہے او ر مسجد کے حکم میں ہے ۔ یہ تصرف کرنا درست نہیں ہے ۔(۲)فقط۔
عید گاہ میں کھیل تماشا درست نہیں
(سوال۲۶۶۵ ) عید گاہ کے اندر اعلان عام کر کے کھیل تماشوں اور کشتی کا کام کرنا یا ہارمونیم باجہ کے ساتھ گانا بلا اجازت متولی عیدگاہ شرعاً جائز ہے یا نہیں ۔
(الجواب )عید گاہ بہت سے امور میں بحکم مسجد ہے اس لئے عید گاہ میں کھیل تماشہ اورکشتی وغیرہ کا کرنا اور ہارمونیم باجا بجانا اور گانا یہ جملہ امور محرمہ حرام اور ناجائز ہیں ۔ متولی عیدگاہ ہرگز ان امور کی اجازت کسی کو نہیں دے
سکتا اور بلا اجازت یا باجازت متولی بھی کسی کو ارتکاب ان امور کا کرنا عیدگاہ میں درست نہیں ہے ۔ ہکذافی الدر المختار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)فاذا تم الوقف ولزم لایملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الوقف ج ۱ص ۵۰۷۔ط۔س۔ج۲ص۳۵۱…۳۵۲) ظفیر۔
(۲)اذا تم الوقف ولزم لا یملک ولا یملک ولا یعار ولا یرھن (الدر المختار علی ہامش ردالمحتار کتاب الوقف ج ۱ ص ۵۰۷۔ط۔س۔ج۲ص۳۵۱…۳۵۲)ظفیر۔