فجرو عصر کی ممانعت معلوم ہوتی ہے اور بعض سے اباحت۔ تو صدر شریعت وغیرہ نے فجر میں حدیث تحریم کو ترجیح دی اور عصر میں حدیث اباحت کو ۔ اسی طرح یہاں بھی کوئی اشکال نہیں ۔ اب بعض عبارات فقہیہ نقل کرتا ہوں جس میں مضمون بالا کی بھی تصریح ہوگی اور یہ بھی معلوم ہوگا کہ صورتیں مذکور تین میں سے صورت اولیٰ میں تاخیر کا بلا کراہت جائز ہونا بلکہ افضل عدم تاخیر کا ہونا کن کن محققین کی رائے ہے ۔ علامہ ابن عابدین رحمۃ اﷲ تعالیٰ در مختار کے قول وفی التحفۃ الا فضل ان لا توخر الجنازۃ کے تحت میں لکھتے ہیں وما فی التحفۃ اقرہ فی البحر والنھر والفتح والمعراج الحدیث ثلث لایؤخرون منھا الجنازۃ اذا حضرت وقال فے شرح المنیۃ والفرق بینھا وبین سجدۃ التلاوۃ ظاھر لان التعجیل فیھا مطلوب مطلقاً الا لمانع وحضور ھا فی وقت مکروہ بخلاف سجدۃ التلاوۃ لان التعجیل لا یستحب فیھا مطلقاً ردالمحتار جلد اول ص ۲۷۵۔ فقط۔
عیدگاہ میں جنازہ قبل نماز آجائے تو کس وقت جنازہ پڑھا جائے
(سوال ۲۸۹۳) اگر کوئی جنازہ عید کے روز احاطہ مسجد عیدگاہ کے اندر قبل از نماز عید لا کر رکھا جائے تو نماز جنازہ کس وقت پڑھنی چاہئے، اگر بعد نماز عید پڑھی جاوے تو خطبہ سے پہلے یا بعد میں ۔
(الجواب ) در مختار میں ہے وتقدم صلوٰتھا علی صلوٰۃ الجنازۃ اذا اجتمعا لانہ واجب عیناً الخ وتقدم صلوٰۃ الجنازۃ علی الخطبۃ الخ ۔(۲) اس سے معلوم ہوا کہ صلوٰۃ جنازہ نماز عیدین کے بعد پڑھنی چاہئے اورخطبہ سے پہلے پڑھنی چاہئے ۔ فقط۔
نماز جنازہ میں سورہ فاتحہ پڑھنا کیسا ہے
(سوال ۲۸۹۴) جنازہ کی نماز میں فاتحہ پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟ فتاویٰ عالمگیریہ میں جواز لکھا اور قاضی ثناء اﷲ صاحب قد س سرہ، نے بھی اپنے وصیت نامہ میں سورہ فاتحہ پڑھنے کو جائز لکھا ہے۔
(الجواب ) فقہاء نے یہ لکھا ہے کہ اگر بہ نیت دعا سورہ فاتحہ جنازہ کی نماز میں پڑھیں تو درست ہے یہی مطلب عالمگیریہ کی روایت کا اور قاضی صاہب کی تحریر کا ہے ۔ فقط۔
جنازہ میں شریک نہ کرنے کی وصیت
(سوال ۲۸۹۵) کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں ۔ دو شخص آپس میں حقیقی بھائی ہیں ، بڑے بھائی نے ایک تیسرے شخص سے یہ وصیت کی کہ میرا چھوٹا بھائی میری تجہیز و تکفین میں شریک نہ ہو تواس صورت میں چھوٹا بھائی تجہیز و تکفین میں اس کی شریک ہو سکتا ہے یانہیں ؟
(الجواب ) یہ وصیت ناجائز ہے وباطل اس پر عمل نہ ہونا چاہئے بلکہ میت کے چھوٹے بھائی کو واسطے ادائے حقوق اسلام و وصل رحم کے اگرچہ دوسرے لوگ تجہیز و تکفین کر نے والے کافی موجود ہوں شریک ہونا چاہئے۔ قال النبی صلی اﷲ علیہ وسلم حق المسلم علی المسلم خمس رد السلام وعیادۃ المریض وا تباع
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) ردالمحتار کتاب الصلوٰۃ ج ۱ص ۳۴۷۔ط۔س۔ج۲ص۳۷۴۔ ۱۲ ظفیر۔
(۲)الدر المختار علی ہامش ردالمحتار باب العیدین ج۱ ص ۷۷۵۔ط۔س۔ج۲ص۱۶۷۔۱۲ ظفیر۔