(الجواب ) یہ بالکل غلط ہے کہ قباء میں آپ کی اقامت جمعہ نہ فرمانے کی کوئی دلیل مولانا علیہ الرحمۃ نے تحریر نہیں فرمائی اور نہ صاحب احسن القریٰ نے کچھ توضیح کی مولانا مرحوم نے خود بھی اوثق العریٰ میں بخاری ص ۱۲۲ جلد اول کی حدیث اس کی دلیل میں نقل فرمائی ہے اور صاحب احسن القریٰ نے بھی اس کی توضیح کی ہے ۔ دیکھو احسن القریٰ ص ۹۔ مگر آپ نے قباء میں اقامت جمعہ نہ فرمائی اور نہ اہل قباء کو امرا قامت جمعہ فرمایا۔ نہ اس پر سرزنش کی کہ مدینہ میں برابر جمعہ ہوتا ہے ، تم نے اب تک کیوں جمعہ قائم نہیں کیا ۔ حالانکہ قباء اور دیگر عوالی میں مسلمان بکثرت موجود تھے مگر کسی وقت میں وہاں جمِعہ نہیں پڑھا گیا۔ چنانچہ بخاری ص ۱۲۲ جلد اول وغیرہ۔ کتب حدیث میں روایت ہے عن ابن عباس ان اول جمہ جمعت فی الا سلام بعد جمعۃ جمعت فی مسجد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم بالمدینۃ لجمعۃ جمعت بجواثاقریۃ من قری البحرین اس روایت صحیحہ سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ عوالی و منازل میں جمعہ نہیں ہوتا تھا۔ ورنہ جواثا میں اولیت جمعہ جو روایت میں مذکور ہے غلط ہوجائے گی انتہی قولہ الشریف ۔ اور یہ اپنی عبارت میں صاحب احسن القریٰ نے اوثق العریٰ ہی کی عبارت کا خلاصہ کیا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ یہ روایت صحیحہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جمعہ مسجد نبوی کے بعد سب سے پہلا جمعہ جو اسلام میں ہوا ہے وہ مقام جو اثا میں ہوا ہے۔ پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ آپ نے قباء میں اس سے پہلے اقامت جمعہ فرمائی ہے اور اس بخاری و ابودائود کی روایت صریحہ صحیحہ سے بڑھ کر کون سی دلیل چاہئے جس کے متعلق اہل حدیث کہتے ہیں کہ مولانانے کوئی دلیل بیان نہیں کی۔ باقی رہا ان کا یہ کہنا کہ تفسیر طبری اور تاریخ الخمیس اورشریح مواہب الدنیہ میں آپ کا قباء میں اقامت جمعہ فرمانا مروی ہے تو اس کا پہلا جواب تو یہ ہے کہ ان کو شرمانا چاہئے کہ صحیح بخاری کی روایت کا مقابلہ تاریخ الخمیس وغیرہ کتب سیرسے کرتے ہیں ۔ کہاں بخاری کی روایت اور کہاں سیر کی غیر معتبر روایتیں ۔ اگر بالفرض تمام کتب سیر متفق ہو کر بھی اس کا خلاف کرتیں تب بھی مسلمان کے لئے ضروری تھا کہ بخاری کی حدیث کے مقابلہ میں ان کی کوئی پرواہ نہ کی جائے چہ جائے کہ تاریخ و سیر کی کتابیں بھی متفق ہو کر روایت بخاری کی ہمنواء ہیں ۔ سب کی سب اس کی تصریح کرتی ہیں کہ آپ نے قباء میں اقامت جمعہ نہیں فرمائی بلکہ وہاں سے چودہویں روز روانہ ہو کرمدینہ کی آبادی کے قریب بنی سالم میں آکر اقامت جمعہ فرمائی ہے ۔ دیکھو فتح البا ری ۔ سیرت ابن ہشام ۔ تاریخ طبری وغیرہ۔ باقی رہا ان کا تین کتابوں تفسیر طبری اور تاریخ الخمیس اور شرح مواہب الدنیہ سے اقامت جمعہ فی القباء کا نقل کرنا ۔ سوتینوں کے متعلق مفصل عرض ہے۔تفسیر طبری میں تو نزول قباء کے واقعہ ہی سے تعرض نہیں کیا اور اگر کسی کو دعویٰ ہے تو صفحہ تحریر کرے ، پھر نہ معلوم کیسے تفسیر طبری پر بہتان باندھا ہے ، البتہ تاریخ طبری میں آپ کے قباء میں تشریف لے جانے کا واقعہ بیان کیا ہے ۔ لیکن اس میں بجائے ا س کے کہ قباء میں اقامت جمعہ منقول ہوتی صراحۃ ً اس کا انکار مروی ہے ۔ دیکھو تاریخ طبری جلد ثانی ص ۲۵۵ سن ۱ھ ہجری کے حالات لکھتے ہو ئے فرماتے ہیں فمن ذلک تجمیعہ صلے اﷲ علیہ وسلم باصحابہ الجمعۃ فی الیوم الذی ارتحل فیہ من قباء وذلک ان ارتحالہ عنہا کان یوم الجمعۃ عامداً الی المدینۃ فادر کتہ الصلوٰۃ صلوٰۃ الجمعۃ فی بنی سالم بان عوف ببطن وادلھم قد اتخذ الیوم فی ذلک