الموضع مسجداً فیما بلغنی وکانت ھذہ الجمعۃ اول جمعۃ جمعھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم فی الا سلام الخ اس کا خلاصہ یہ ہے کہآپ نے چودھویں روز قباء سے روانہ ہو کر اقامت جمعہ بنی سالم میں فرائی ہے اور یہی جمعہ آپ کا پہلا جمعہ ہوا ہے ۔ الحاصل تفسیر طبری میں تو اس کا نام نہیں ، اور تاریخ طبری میں ہے تو ان کے بالکل خلاف اور ہمارے بالکل موافق۔
(۲)شرح مواہب الدنیہ معروف بہ (زرقانی ) میں بے شک ایک ضعیف سی روایت میں ہے کہ آپ نے مدت اقامت قباء میں اقامت جمعہ فرمائی ہے جس کی تضعیف خود زرقانی کے قول سے مترشح ہوتی ہے ۔ کیونکہ کہتا ہے ’’قیل کان یصلی الجمعۃ فی مسجد قباء مدۃ اقامتہ‘‘لفظ قیل خود تضعیف کی طرف اشارہ ہے سو اس کا جواب حضرت مولانا مدظلہ العالی نے احسن القریٰ میں پوری تفصیل کے ساتھ لکھ دیا ہے دیکھو احسن القریٰ ص ۸۸ فرماتے ہیں ۔ خیران خرافات و فضولیات سے قطع نظر کر کے یہ عرض کرتا ہوں کہ عبارت زرقانی قیل کان یصلی الجمعۃ الخ اول تو کسی طرح قابل استناد ولائق اعتبار نہیں حتیٰ کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ قائل کون ہے اس کا تو موقع کیا ہے کہ قائل کیسا ہے معتبر یاغیر معتبر ۔ علیٰ ہذا القیاس ۔ سند کا نشان بھی نہیں اس کا تو ذکر کیا ہے کہ سند متصل ہے یا منقطع ، صحیح ہے یا ضعیف ، معتبر ہے یا غیر معتبر۔ دوسرے یہ قول شاذ جمیع را یات معتبرہ اور اتفاق اہل سیر کے جس کو مجیب خود نقل کرتے ہیں صریح مخالف و معارض ہے ۔ جملہ روا یات میں یہی مذکور ہے کہ بوقت ہجرت آپ نے بنی سالم یعنی حرہ بنی بیاضہ میں پڑھا حتی کہ اہل تفسیر و اہل سیرجو روایات حدیث نقل فرماتے ہیں ان میں صراحۃً یہ روایت منقول ہے فمر علے بن سالم فصلی فیھم الجمعۃ ببنی سلام وھو اول جمعۃ صلاھا رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الی قولہ الشریف ۔
(۳)اس کے سواء ہم اوپر ثابت کر چکے ہیں کہ حسب ارشاد اکابر اور تصریحات معتد بہ امر محقق ہے کہ عوالی میں کبھی جمعہ نہیں ہوا اور ہمارے ہر دو مجیب بھی اس کو تسلیم فرماتے ہیں اب اس قول شاذو مجہول کی وجہ سے یہ قصہ بھی بالکل گائو خورد ہوجائے گا ور ان کا تمام تصریحات کے مخالف اب یہ کہنا پڑے گا کہ عوالی میں بے شک جمعہ ہوا ۔ واﷲ اعلم ۔
خطبہ کوئی دے اور امامت کوئی کرے یہ درست ہے
(سوال ۲۳۸۷) خطبہ کی اجازت امام جمعہ نے جمعہ کے دن کسی کو تعظیماً دی خطیب نے خطبہ کے بعد امام جمعہ سے یا کسی اور شخص سے باجازت امام جمعہ کی نماز پڑھوائی تو صلوٰۃ جمعہ بکراہت ادا ہوگی یا بلا کراہت۔
(الجواب ) در مختار میں ہے لا ینبغی ان یصلی غیر الخطیب لا نھما کشئی واحد فان فعل الخ جاز الخ قولہ لا نھما) ای الخطبۃ والصلوٰۃ کشئی واحد لکونھما شرطاً و مشروطاً ولا تحقق للمشروط بدون شرطہ فالمناسب ان یکون فاعلھما واحد الخ۔ (۱) شامی باب الجمعہ ۔ پس معلوم ہوا کہ بہتر اور مناسب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱) ردالمحتار باب الجمعہ جلد اول ص ۷۷۱ ۔ط۔س۔ج۲ص۱۶۲۔۱۲ ظفیر۔