(الجواب ) جمعہ وہاں درست ہے اور کاخانہ والوں کو اذن ہونا کافی ہے اور کار خانہ والوں کی جماعت وہاں جمعہ کی سکتی ہے۔ (۱) اور پنج گانہ نمازوں کے لئے تو کسی حاکم کے اذن کی ضرورت ہی نہیں ہے ، لہذا ظہر وہاں پر ہرایک شخص کی ادا ہوجاتی ہے ۔ فقط۔
فسادی امام کے پیچھے جمعہ
(سوال ۲۴۵۷) ایک امام مسجد نے مطلقہ ثلثہ کا نکاح مطلق سے بلا حلالہ کے کردیا اور کہا کہ میرے نزدیک یہ واحدہ رجعیہ ہے ۔ اس کو سمجھانے کے لئے شرح وقایہ دکھلایا گیا تو اس نے شرح وقایہ صحن مسجد میں پھینک دیا اور خطبہ میں اخباری تقریریں پڑھتا ہے تو دوسری مسجد میں علیٰحدہ جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ۔ بعض لوگ امام اول ہی کے پیچھے پڑھنا چاہتے ہیں ۔
(الجواب ) علیٰحدہ بھی جمعہ پڑھنا جائز اور درست ہے ۔ اور اگر امام اول کے پیچھے مسجد اولیٰ میں پڑھیں تو یہ بھی درست ہے ۔ غرض یہ کہ امام اول اگر فسادی شخص ہے اور اس کے علیٰحدہ کرنے میں فتنہ ہے تو اسی کے پیچھے نماز پڑھ لیں ہر طرح درست ہے ۔ اور اگر امام اول کے علیٰحدہ کرنے میں کچھ فتنہ نہیں ہے اور وہ صاف طور سے توبہ نہ کرے تو اس کو علیٰحدہ کر کے امام ثانی مقرر کیا جاوے۔ (۲) فقط۔
امیر اگر کسی آبادی کو مصر بنا دے تو وہاں جمعہ درست ہے
(سوال ۲۴۵۸) ربذہ گائوں تھا یا کیا، یہاں حضرت ابو ذر کا جمعہ پڑھنا خلیفہ ثالث اور اکثر جلیل القدر صحابہ کا اس پر نکیر نہ فرمانا ثابت ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) ربذہ کے متعلق شرح منیہ میں منقول ہے وعن محمد ان کل موضع مصرہ الا مام فھو مصر حتی لوانہ بعث الی قریۃ نائباً لا قامۃ الحدود والقصاص تصیر مصراً فاذا عزلہ تدحق بالقری ووجہ ذلک ماصح انہ کان لعثمان عبد اسود امیر علی الربذۃ یصلی خلفہ ابو ذر و عشرۃ من الصحابۃ الجمۃ وغیرھا ذکرہ ابن جزم فی المحلی۔(۳) فقط۔
جمعہ کے دن بھی زوال کے وقت نماز درست نہیں
(سوال ۲۴۵۹) بعض لوگ جمعہ کے دن عین دوپہر کے وقت قبل اذان دو رکعت تحیۃ الوضو پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جمعہ کے روز دوپہر کے وقت یہ دو رکعت مکروہ نہیں ۔ یہ صحیح ہے یا نہیں ۔
(الجواب ) صحیح یہ ہے کہ زوال کے وقت کوئی نماز درست نہیں ہے ، سب نمازیں فرض و واجب و سنت و نفل اس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)قلت وینبغی ان یکون محل النزاع ما اذا کانت لا تقام الا فی محل واح اما لو تعدوت فلا، لانہ لا یتحقق التفویت کما افادہ التعلیل ( ردالمحتار باب الجمعۃ ج۱ ص ۷۶۲۔ط۔س۔ج۲ص۱۵۲)ظفیر۔
(۲)قال اصحابنا لا ینبغی ان یقتدی بالفاسق الا فی الجمعۃ لانہ فی غیرھا یجد اما ما غیرہ اہ قال فے الفتح وعلیہ فیکرہ فی الجمعۃ اذا تعددت اقامتھا فی المصر علی قول محمد المفتی بہ لا نہ بسبیل الی التحول ( ردالمحتار باب الا مامۃ ج ۱ص ۵۲۳۔ط۔س۔ج۲ص۵۶۰)ظفیر۔
(۳)غنیۃ المستملی بحث شروط جمعہ ص ۵۱۲۔ ۱۲ظفیر۔