(جواب) حیلہ تملیک کے بعد زکوٰۃ و صدقات واجبہ کا مدرسہ کے ملازمین و معلمین کی تنخواہ میں صرف کرنا درست ہے۔ (۱) فقط۔
فی سبیل اﷲ میں کون لوگ داخل ہیں
(سوال ۵۰۶)آیۃ کریمہ انما الصدقت للفقراء الآیۃ میں وفی سبیل اﷲ میں کون کون سے مصارف داخل ہیں ، عملہ و دفتر انجمن ہائے تبلیغ و حفاظت اسلام کی تنخواہ اور مصارف خوراک و سفر وغیرہ اس میں داخل ہیں یا نہیں ۔
(جواب) در مختار میں ہے وفی سبیل وھو منقطع الغزاۃ وقیل الحاج وقیل طلبۃ العلم فسرہ فی البدایع بجمیع القرب الخ(۲) غرض یہ ہے کہ فی سبیل اﷲ میں بے شک موافق تفسیر صاحب بدایع کے جملہ مصارف خیر داخل ہیں لیکن جو شرط ادائے زکوٰۃ کی ہے وہ سب جگہ ملحوظ رکھنا ضروری ہے ، وہ یہ ہے کہ بلا معاوضہ تملیک محتاج کی ہونی ضروری ہے اس لئے حیلہ تملیک اول کر لینا چاہئے تاکہ تملیک کے بعد تبلیغ وغیرہ کے ملازمین کی تنخواہ وغیرہ میں صرف کرنا اس کا درست ہوجاوے ۔ فقط۔
مالک نصاب بیوہ عورت کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں
(سوال ۵۰۷)ایک عورت بیوہ کے پاس مال زکوٰۃ دینے کے لائق ہے، اس کے کئی چھوٹے بچے ہیں ، ان کو زکوٰۃ دینا درست ہے یا نہیں ۔
(جواب) جو عورت مالک نصاب ہے اس کو اور اس کے نابالغ بچوں کو زکوٰۃ دینا درست نہیں ہے ، اس سے زکوٰۃ ادا نہ ہوگی جیسا کہ فرمایا اﷲ تعالیٰ نے انما الصدقات للفقراء والمساکین ۔ الآیۃ۔(۳)فقط۔
صرف اراضی ہو زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں
(سوال ۱/۵۰۸)جس کے پاس اراضی ہواورنقد روپیہ نہ ہو اس کو زکوٰۃ لینا جائز ہے یا نہیں ۔
مسافر زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں
(سوال ۲/۵۰۹)اگر مسافر اپنے وطن سے روپیہ منگا سکے تب بھی زکوٰۃ لے سکتا ہے یا نہیں ۔
(جواب) (۱) اگر گذر کے موافق جائداد اور زمین نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ و صدقہ لینا درست ہے ۔ (۴)
(۲)مسافر زکوٰۃ لینا درست ہے جب کہ اس کے پاس مال بقدر نصاب نہ ہو اگرچہ اس کے مکان پر ہو ۔ (۵) فقط۔
کسی مدرسہ کے نام سے زکوٰۃ وصول کر لایا وہ مدرسہ قائم نہ ہو ا تو کیا کرے
(سوال ۵۱۰)کسی نے زکوٰۃ ، فطرہ، قربانی کا روپیہ وصول کیا تھا کہ فلاں جگہ مدرسہ قائم کروں گا ، وہ مدرسہ کسی سبب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(۱)وحیلۃ التکفین بھا التصدق علی فقیر ثم ھو یکفن فیکون الثواب لھما وکذافی تعمیر المسجد ( الدر المختار علی ہامش رد المحتار کتاب الزکوٰۃ ج ۲ ص ۱۶۔ط۔س۔ج۲ص۲۷۱) ظفیر۔
(۲)الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب المصرف ص ۸۳۔ط۔س۔ج۲ص۳۴۳ ۱۲ ظفیر
(۳)سورہ توبہ رکوع ۸۔
ولا الی غنی یملک قدر نصاب فارغ عن حاجہ الا صلیۃ من ای مال کان (الدر المختار علی ہامش رد المحتار باب المصرف ج ۲ ص ۸۸۔ط۔س۔ج۲ص۳۴۷) ظفیر۔
(۴)سئل محمد عمن لہ ارض یزرعھا اوحانوت یستغلھا او دار غلتھا ثلاثۃ الا ف ولا تکفی لنفقتہ ونفقۃ عیالہ سنۃ یحل لہ اخذ الزکوٰۃ وان کانت قیمتھا تبلغ الو فا (رد المحتار باب المصرف ج ۲ ص ۸۸۔ط۔س۔ج۲ص۳۴۸) ظفیر۔
(۵)ابن السبیل وھو کل من لہ مال لا معہ الخ یصرف المزکی الی کلھم اوا لی بعضھم(در مختار) قولہ ابن السبیل ھو المسافر سمی بہ للزومہ الطریق (رد المحتار باب المصرف ج ۲ ص ۸۴۔ط۔س۔ج۲ص۳۴۳) ظفیر